لاکھوں لوگوں کا آزمایا ہوا وظیفہ

امام جعفرِ صادقؑ نے فرمایا اگر دعاؤں کی قبولیت کے لئے پریشان ہو اپنی کامیابی اور منزل پانے کے لئے فکر مند ہو تو 20 جمادی الثانی کو مغرب کی نماز کے بعد سورہ کوثر 27 مرتبہ پڑھا کرو

اور پھر ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ کی دربار میں میری دادی بی بی فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیہا کا واسطہ دے کر اپنی وہ وہ دعائیں مانگاکرو جو تم اپنے لئے چاہتے ہو

کیونکہ اللہ نے اثرات کو میری دادی بی بی فاطمۃ الزہ سلام اللہ علیہا کی آمد کے لئے چنا ہے اور اس رات اللہ تمام فرشتوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور ہر اس انسان کو ڈھونڈو جو اس رات ذکر بی بی فاطمۃ الزہرہ میں مصروف ہے ان کی تمام دعاؤں کو فورا پورا کردو تبھی جو بھی انسان مغرب کی نماز کے بعد 20جمادی الثانی سورہ کوثر کو 27 مرتبہ پڑھ کے جو بھی دعا مانگتا ہے

اللہ بغیر کسی رکاوٹ کے فورا قبول کردیتا ہے۔سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم اللہ رب العزت سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعاکرتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا ، میں تمہیں معاف کرتا رہوں گا چاہے تم سے کچھ بھی سر زد ہوتا رہے۔

ابن آدم ! مجھے اس امر کی کوئی پروانہیں کہ اگر تمہارے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں ، پھرتم مجھ سے بخشش طلب کرو تو میں تمہیں بخش دوں گااور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ ابن آدم !اگر تو گناہوں سے پوری زمین بھر کر لے آئے لیکن تمہارے دامن پر میرے ساتھ شرک کا داغ نہ ہو تو میں اتنی ہی مغفرت لے کر آؤں گا اور تمہیں معاف کردوں گا۔

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں ہی کھلاؤں، پس تم سب مجھ ہی سے کھانا مانگوتاکہ میں تمہیں کھلاؤں۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں ہی پہنا دوں، سو تم مجھ ہی سے لباس طلب کرو تاکہ میں تمہیں پہنا دوں ۔

اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے ، تمہارے جن اور انسان سب ایک ہی میدان میں جمع ہو جائیں اور سب مل کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر سوال کرنے والے کو اس کی طلب کے مطابق عطا کردوں تو میرے خزانے میں سے اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی ہوتی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا،اللہ عز وجل فرماتا ہے:میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہی اس سے معاملہ کرتا ہوں ۔ وہ جب مجھے پکارتا ہے تو میںاس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے نفس میں مجھے یاد کرے تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتاہوں ۔ اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یادکرے تو میں بھی اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔

اگر وہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں۔ اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کرآتا ہوں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین