گھر سے نکلتے وقت بیوی کو بوسہ دینے والے شوہر

یہ بات صحیح ہے کہ محبت کی اصل جگہ اور محل دل ہے لیکن پھر بھی لوگ ظاہری طور پر اس کی علامات دیکھنا پسند کرتے ہیں اصل میں محبت نا م ہے اچھے اعمال کے مجموعے کا جو ایک شخص اپنے محبوب کے لئے کرتا ہے جس کے نتیجے میں محبوب کے دل میں بھی اس کے لئے محبت پیداہوتی ہے

دونوں میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت جتائیں بیوی ان کاموں کی جستجو کرے جو اس کا شوہر پسند کرتا ہے آپ ﷺ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ کے تقوے کے بعد مومن کے لئے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں اگر اس کو کسی کام کا حکم دیتا ہے تو اسے بجالاتی ہے اور اگر اس کی طرف دیکھتا ہے تو اسے خوش کردیتی ہے

اور اگر اس پر قسم کھاتا ہے تو اسے پورا کرتی ہے اور اگر اسے چھوڑ کر جاتا ہے تو اس کے جان و مال میں اس کی خیر خواہی کرتی ہے اسی طرح میاں کو بھی چاہئے

کہ وہ بیوی کے ساتھ پیارو محبت سے رہے اس کے گھروالوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور جو بھی چیز اسے فائدہ پہنچاتی ہو اور جس چیز کی بھی اسے ضرورت ہو شوہر اسے وہ چیز مہیا کرے اسے بناؤ سنگھار وغیرہ کا سامان لا کر دے اور چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کرے اسی لئے بیوی کو ہمیشہ اپنی محبت کا اپنے اعمال سے بھی احساس روز دلانے کی شریعت نے اتنی اہمیت دی ہے

کہ اگر کسی کام سے بھی شوہر کو باہر جانا ہو اور گھر میں بیوی کے علاوہ کوئی غیر موجود نہ ہو تو باہر جاتے وقت ایک دوسرے سے مل کر بوسہ لے کر جائے کیونکہ حدیث پاک میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے جب نماز کے لئے باہر جانا ہو تا نکلتے ہوئے بعض مرتبہ میرا بوسہ لے لیاکرتے تھے اور پھر نماز کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے

اللہ اکبر اسی لئے تمام شوہروں کو چاہئے اگر وہ گھر سے کسی کام یا آفس کے لئے جارہے ہوں تو جانے سے پہلے حضور ﷺ کی اس سنت کو ہی زندہ کرتے چلے جائیں تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں آپ کی زندگی میں وہ مثالی محبت پیدا ہوگی کہ جس کی مٹھاس کبھی ختم نہ ہوگی ہمیں چاہئے کہ ہم حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں یہی وجہ ہے آج ہمارے گھروں میں جو ناچاقیاں اور طلاق کی جو شرح بڑھتی نظر آتی ہے

اس میں ایک وجہ محبت سے پیش نہ آنا اور درگزر کا حوصلہ نہ رکھنا بھی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ حضور ﷺ کی ہر سنت کو زندہ کرنے والا بنائے اور میاں بیوی کے حقوق ادا کرنے والا بنائے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین