اگر قربت کے فوراً بعد ماہواری آجائے تو کیا ؟؟ عورت کو غسل کرنا لازمی ہوگا؟؟؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رات کو میاں بیو ی نے ازدواجی تعلق قائم کیا۔ یعنی قربت طاری ہوئی اور صبح اٹھ کر دیکھا تو ماہواری ہوچکی ہے۔ یعنی کہ اسے ماہواری آچکی ہے۔ یا دن بھر میں قربت کی اور ابھی تک غسل نہیں کیا ہے۔ اور غسل کرنے سے پہلے پہلے عورت نے دیکھا کہ اسے ماہواری آچکی ہے۔

اب وہ عورت غسل جو قربت کا موسم ہوتاہے۔ وہ غسل کرے گی یا چھوڑ دے گی۔ آج اس نازک مسئلہ پر آپ کے ساتھ کچھ اپنی معلومات کو شیئر کریں گے۔ کیونکہ یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔

دیکھیں کہ عورت کو ماہواری آجاتی ہے اور اس نے غسل نہیں کیا ہے۔ اس صورت میں جب ماہواری آگیی تو شریعت یہ کہتی ہے کہ قربت کے بعد غسل ج ن اب ت کی جاتا ہے اور درحقیقت پاک ہونے کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔ وہ عورت جو کہ ماہواری میں آچکی ہے تو وہ پاکی او ر غسل کرے گی۔ تو پاک نہیں ہوگی۔

یعنی عورت ماہواری سے پہلے اگر ج ن اب ت میں تھی۔ اور اس نے غسل نہیں کیا اب وہ غسل کرے گی۔ کیاوہ غسل کرنے سے پاک ہوجائے گی۔ نماز پڑھے گی۔ نہیں۔ حالت ِ ماہواری میں کوئی بھی عورت نماز نہیں پڑھتی ۔ ہاں اگر عورت یہ چاہے کہ میں صرف نہانے کے لیے غسل کررہی ہوں۔

یا مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے تو غسل کررہی ہوں۔ یا میں تازہ دم ہونے کےلیے غسل کررہی ہوں۔ ویسے غسل کرسکتی ہے اس میں اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر وہ یہ ہے کہ غسل ج ن اب ت کرنا چاہے یعنی میں غسل کروں گی۔ تو پاک ہوجاؤں گی۔ تو حالت ماہواری میں پاک ہونے کا تصور بھی پیدا نہیں ہوتا ۔ ویسے ہی عادتاً یا ضرورتاً غسل کرنا چاہتی ہے۔ اس کی اجازت ہے۔ لیکن پاکی اور غسل ج ن اب ت والا غسل نہیں ہوگا۔جب وہ حالت ماہواری سے فارغ ہوجائے گی۔

اور اس کے ماہواری کے ایام ختم ہوجائیں گے۔ اس کےبعد آپ غسل کرکے پاک ہوسکتی ہیں۔ اس سے پہلے آپ غسل کرلیں گی۔ تو آپ پاک نہیں ہوں گی۔ ماہواری کے ایام کم ہونے کے بعد جو غسل کیا جاتا ہے۔ اس کےبعد ہی آپ کو پاکی ہوگی۔

ماہواری کے ایام گزرنے کے بعد آپ جو غسل کریں گی۔ اسی سے آپ کو پاکی حاصل ہوگی۔ اور آپ نماز ادا کرپائیں گی۔