ہر گھر میں 2 فرشتے صبح کیا لینے آتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ مال کو خرچ کرنے والوں سے خوش ہوتا ہے جب کہ مال کو جمع کرنے اور خرچ نہ کرنے والوں سے ناراض ہوتا ہے ۔

اس تحریر میں حضرت علی ؓ کی ایک حکایت شیئر کررہے ہیں کہ اللہ کی طرف سے آسمانوں سے ہر گھر پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور بعض لوگوں کے لئے وہ دعائیں کرتے ہیں جب کہ بعض لوگوں کے لئے وہ بددعائیں کرتے ہیں وہ کونسے لوگ ہیں جن کے لئے فرشتے دعائیں کرتے ہیں اور ایسے کونسے لوگ ہیں جن کے لئے فرشتے بددعائیں کرتے ہیں ؟

یہ بات حق اور سچ ہے کہ سخی اللہ کا دوست و جنتی ہے بخیل اللہ سے دور اور جہنم کے قریب ہے یاد رہے کہ انسانی عادتوں میں سخاوت یعنی اپنے مال کو اللہ کے لئے غریبوں ضرورت مندوں کو دینا اللہ اور رسول کو بھی بہت عزیز ہے۔

اور ایسے لوگوں کو عوام الناس یعنی اللہ کی مخلوق بھی پسند کرتی ہے اور اسی طرح سخاوت کی ضد یعنی کنجوسی بخل اللہ اور رسول کے ساتھ عوام الناس کے نزدیک بھی ناپسندیدہ عمل ہے سخاوت کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے اور کنجوسی کو بہت ناپسند فرماتا ہے ۔احادیث پاک میں سخاوت کی بہت فضیلت اور بخل کی بہت مذمت کی گئی ہے نبی رحمت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے دو خلق عادات ایسی ہیں جنہیں اللہ دوست رکھتا ہے

ایک سخاوت دوسری نیک عادت اور دوخلق یعنی دو عادات ایسی ہیں جنہیں اللہ ناپسند فرماتا ہے ایک بخل یعنی کنجوسی اور دوسری بد خوئی آقا ﷺ فرماتے ہیں کہ سخی کی غلطی کو معاف کر دو کہ جب وہ تنگ دست ہوتا ہے تو حق تعالیٰ اس کی دست گیری فرماتا ہے سخی کی سخاوت اس کی حفاظت و سلامتی کرتی ہے وہ بندگان خدا پر خر چ کر کے مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اس کا مال بڑھتا ہی جاتا ہے۔

اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے اس بارے میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے اور اے لوگو تم جو کچھ بھی اچھی چیز خیرات کرتے ہو تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے رہو اور جو کچھ تم خیرات کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ اللہ کے لئے اپنے گھر والوں پر غریبوں پر اور عزیز و اقارب پر خرچ کرنا اللہ کو محبوب ہے۔

حضرت علی ؓ کی ایک حکایت میں یوں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ ؓ سے سوال کیا کہ صبح صبح کے وقت کیا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے تو آپ ؓ نے فرمایا اے شخص یا د رکھو کہ جب صبح کا وقت ہوتا ہے تو ہر گھر میں دو فرشتے آتے ہیں ایک فرشتہ ہر گھر میں جا کر دعا کرتا ہے اور ایک فرشتہ التجا کرتا ہے تو وہ شخص پوچھنے لگا اے علی ؓ کیا دعا کی جاتی ہے۔

اور کیا التجا کی جاتی ہے تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ جب صبح کا وقت ہوتا ہے تو ہر گھر میں ایک فرشتہ آتا ہے اور دیکھتا ہے کہ جس گھر میں ایسا شخص موجود ہو جو کہ اپنے گھر والوں پر اور اپنے عزیز و اقارب پر خوشی سے خرچ کرتا ہے اور کھلے دل سے ان کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے تووہ فرشتہ دعا کرتا ہے

کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کو کبھی تنگ نہ کرنا اس پر رزق کی وسعت کر اور اس کی نعمتوں میں اضافہ فرما تا کہ یہ اپنے گھر والوں اور عزیز و اقارب پر یونہی خر چ کرسکے اور دوسرا فرشتہ ایسے انسان کو تلاش کرتا ہے جو اپنے مال کو چھپا کررکھتا ہے اور اپنے گھر والوں اور عزیز و اقارب پر خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے تو وہ اللہ سے فریاد کرتا ہے کہ اے اللہ تو اس شخص پر مال کو تنگ کر دے اور اس سے اس مال کے بارے میں سختی سے حساب کرنا اور یہ بھی فریاد کرتا ہے۔

کہ اس کو اس مال سے محروم کر کیونکہ وہ اپنے گھر والوں اور اپنے عزیز و اقارب پر خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے یوں عزیز و اقارب پر خرچ کرنے والا فرشتوں کی وسعت رزق کی دعائیں حاصل کرتا ہے اور آخرت میں ان کا اجر عظیم ہے

جبکہ دوسری جانب جو شخص عزیز و اقارب اور گھر والوں پر خرچ نہیں کرتا تووہ فرشتوں کی تنگی رزق کی بددعاؤں میں شامل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس شخص سے پوچھ گچھ ہوگی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین