یوم ِ عرفہ اور میدان ِ عرفہ کی فضیلت

عرفہ یعنی ذی الحجہ کی نویں تاریخ کی بڑی فضیلت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ کے نزدیک عرفہ کے دن کی بڑی فضیلت ہے اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور زمین والوں کے ساتھ آسمان والوں سے فخر کرکے فر ما تا ہے کہ میرے بندوں کو دیکھو دو دروازے سے پرا گندہ سر، گرد آلود یہاں پر آئے ہیں میری رحمت کی امید کرتے ہیں

اگرچہ میرے عذاب کو دیکھا نہیں ، اس نویں تاریخ کو بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتاہے”۔نبی کریمﷺ نے عرفہ کے دن فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ اس دن تمہاری حاضری کی وجہ سے فرشتوں کی جماعت پر فخر کرتا ہے اور فرماتاہے۔ تمہارے گناہوں کو معاف کرتاہوں مگر حق العباد کونہیں نیک لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرتا ہوں نیکیوں کے سوال کو پورا کرتاہوں،

اللہ کا نام لے کر مزدولفہ چلو مزدلفہ میں بھی اللہ تعالیٰ نیکیوں کی مغفرت فرماتاہے اور ان کی سفارش کو منظور فرماتا ہے اور رحمت خداوندی سب کو گھیرلیتی ہے ۔ زمین میں اس کی مغفرت پھیل جاتی ہے اور جس نے اپنی زبان اور ہاتھ کی نگرانی کی ہے ان کو وہ رحمت گھیر لیتی ہے ابلیس اور اس کی ذریات عرفات کے پہاڑوں پرچڑھ کر حاجیوں کو دیکھ کر پریشان ہو کر چیختے چلاتے ہیں۔

حضرت انس بن مالک ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میدان عرفات میں ٹھہرے آفتاب غروب ہونے کے قریب۔ حضرت بلال ؓسے فرمایا: “لوگوں کو خاموش کرواؤ”۔حضرت بلال ؓکھڑے ہوکر لوگوں سے فر مایا: رسول اللہ ﷺ کے لیے تم سب خاموش ہوجاؤ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لوگو ابھی ابھی حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے تھے ا ور اللہ پیغام وسلام مجھے پہنچایا اور فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے سب عرفات والوں کو بخش دیا ہے”۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا: یہ ہم صحابہ ؓ کے لیے خاص ہے یا سب امت کے لیے ؟

آپﷺ نے فر مایا: “یہ تمہارے لیے اور تمہارے بعد قیامت تک آنے والوں کے لیے ہے”۔بعض کا قول ہے کہ میدان عرفات کے پورب کی طرف وادئ نعمان ہے ۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے روزِ اول میں فرمایا : “کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟” ہم سب نے اس کے جواب میں (بلی) کہاتھا۔ “بے شک آپ ہمارے رب ہیں”۔

چوں کہ حاجی میدانِ عرفات میں 9 ذی الحجۃ کو جمع ہوتے ہیں،اس لیے پوری دنیا کے مسلمان چودہ سو برس سے اُس دن روزہ رکھتے آئے ہیں، جس دن ان کے ملک میں 9 ذی الحجۃ کی تاریخ ہوتی ہے، لیکن اب بعض حضرات اسے نادرست قرار دینے لگے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اُس دن روزہ رکھنا چاہیے جس دن حاجی عرفات میں ہوتے ہیں، خواہ ان کے اپنے ملک میں اس دن کی تاریخ کچھ بھی ہو.

احادیث میں جو فضیلت آئی ہے وہ عرفہ کے دن کے روزے کی ہے، 9 ذوالحجہ کی نہیں ہے. کسی حدیث میں 9 ذوالحجہ کا روزہ رکھنے کے الفاظ نہیں آئے ہیں، یعنی اس روزے کا تعلق رمضان کی طرح چاند سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے، اور عرفہ اس دن کو کہتے ہیں جب حاجی عرفات میں اکھٹے ہوتے ہیں.