قرآن کی وہ آ یت جس کو پڑ ھتے ہی جسم سے ہر بیماری ختم ہو جاتی ہے۔

اکثر لوگوں کی یہ شکایت ہو تی ہے کہ گھر کے اندر سے بیماری نکلتی ہی نہیں ہے۔ کبھی چھوٹا بیمار ہو جاتا ہے ۔ وہ ٹھیک ہوتا ہے تو پھر بڑے کو تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی بچہ ۔ کبھی بچی۔ کوئی نہ کوئی گھر کا فرد بیمار ضرور رہتا ہے ۔ تو بیماریوں نے گھروں کے اندر ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ بہت علاج کروائے۔ حکیموں کے پاس گئے۔ ڈاکٹروں کے پاس گئے۔

وقتی طور پر آ رام آ جا تا ہے لیکن پھر معا ملہ اسی طرح رہتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے لیے آج وظائف میں آ پ کے سامنے لے کر آ یا ہوں ۔ یہ دعائیں جو اللہ رب العزت نے خود آقا کو سکھا ئیں اور پیارے آ قا نے اس امت کو سکھا لا ئیں ۔ وہ ساری ترتیب کے ساتھ آپ کے سامنے رکھوں گا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے۔ جو تین مرتبہ شام کو یہ دعا پڑھ لیتا ہے۔

اس کو کبھی بھی اچانک کوئی بھی بلا نہیں پہنچتی۔ بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شی ء فی الرض ولا فی السما ء وہو السمیع العلیم ۔ آپ ﷺ نے فر ما یا کہ انسان جہاں بھی رہتا ہے ۔ کبھی پڑتا ہے ۔ کبھی پڑاؤ ڈالتا ہے۔ کبھی ایک شہر میں جاتا ہے۔ کبھی دوسرے شہر میں جا تا ہے۔ اگر وہ یہ دعا پڑ ھ لے۔ اعوذ بکلمات اللہ التا مۃ من شر ما خلق ۔

جب تک یہ دعا پڑ ھ کے جہاں بھی رہے گا ۔ دنیا کی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ یہ کون کہتے ہیں۔ جس کو پیارے آقا ﷺ کہتے ہیں۔ کہ جو یہ تین مرتبہ کلمات پڑھ لے اس کو پوری دنیا کی کوئی بھی طاقت یا کوئی بھی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ تو پھر ہمارے دل سے خوف اور ڈر نکلنا چاہیے۔ تیسری دعا۔ اگر کسی کو خوف آ ئے یا ڈر آ ئے ، کوئی بھی بیماری۔

حدیث کے الفاظ ہیں۔ کوئی بھی بیماری ، کسی بھی قسم کی بیماری ہو۔ انسان پر کوئی بھی سختی آ رہی ہے وہ سختی میں مبتلا ہے تو وہ یہ دعا پڑھ لے اللہ اللہ ربی لا اشرک شیا ۔ اس دعا کے پڑھنے والے انسان کو اللہ پاک سختیوں سے ہی بچاتے ہیں اور فکر و غم اور بیما ریوں سے بھی اللہ پاک محفوظ فر ما دیتے ہیں۔

چوتھی دعا جو رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ پڑ ھا کرتے تھے ۔ جامع ترمذی کی روایت ہے : یا حی یا قیوم بر حمتک استغیث ۔ پانچویں دعا جو اللہ پاک نے قرآن میں اتاری ہے ۔ یہ وہ دعا ہے جو سیدنا حضرت یو نس ؑ نے تین اندھیروں میں کی تھی ۔ رات کا اندھیرا ۔ پانی کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔

آج جو موجودہ حا لات بنے ہوئے ہیں ۔ اس میں پوری امت بلکہ پوری دنیا ایک خوف اور پریشانی کے اندھیروں میں ڈوب چکی ہے۔