ایک ذکر اپنی زندگی کا حصہ بنا لو ۔ ہر جائز خواہش پوری ہو گی

کچھ عادی بنا ئیں ۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمارے اسلاف جیسے پوری پوری رات عبادتیں کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی کیا کریں۔ کچھ تو عادی بنا ئیں اپنے آپ کو اللہ کے سامنے رونے دھونے کا کچھ تو اللہ کا نام لینے کا اپنے زبان کو عادی بنا ئیں۔ جو تبلیغ والے تسبیحات ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سو مرتبہ صبح لا الہ اللہ وحدہ لا شریک اللہ لہ الملک ولا الحمد وھو کلی شئی قدیر یہ حدیث تبلیغ والے تو تیسرہ کلمہ بتاتے ہیں۔

یہ کلمات حدیث میں آتےہیں ۔ آپ ﷺ ارشاد فر ما یا ۔ جس نے سو مرتبہ یہ کلمات پڑ ھے ۔ اس سے زیادہ نیکیاں پورے دن میں کوئی شخص نہیں کما سکتا سوائے اس کے جو اس سے بھی زیادہ مرتبہ پڑ ھے۔ تو ذکر سے محبت پیدا کر یں ۔ ذ کر سے ۔۔ ذکر کی لذت نہیں ہے۔

بس ایسے ہی پڑ ھ کے ٹی وی بھی دیکھ رہے ہیں ۔ فلم بھی دیکھ رہے ہیں اور تسبیح بھی کر رہے ہیں ۔ تسبیح چل رہی ہے۔ کیسے پیارے کلمات ہیں ۔ کیسا مزہ آ تا ہے ان کلمات کو پڑ ھنے میں ۔ لا الا اللہ وحدہ لا شریک ۔ کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ کے اور اللہ ہی معبود ہے ۔ اور اللہ ہی واحد ہے۔ کتنا اللہ خوش ہوتا ہے کہ جب ساری دنیا مجھے بھول گئی ہے ۔

ہر وقت دولت کی باتیں ۔ پیسے کی با تیں ۔ مکان کی با تیں ۔ اس سے اتنے پیسے لینے ہیں۔ اس کو اتنے پیسے دینے ہیں۔ وہ کاروبار بند ہو گیا۔ اس کو کھو لنا ہے۔ یہ کر نا ہے ۔ وہ کر نا ہے۔ ہر وقت ۔۔ 24گھنٹے ۔۔ جس نے پیدا کیا ۔ جس کے پاس لوٹ کر جا نا ہے ۔۔ اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ سب چیزیں چھوڑ نی ہیں ۔

یہ بیوی بچے چھوڑ نے ہیں۔ یہی قبر میں اتاریں گے۔ جو آج کہہ رہے ہیں کہ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ او ۔۔۔ یہی اتار کے آ ئیں گے قبر میں ۔ اور اگر کرونا سے مر گئے نا۔۔۔ تو قبر میں بھی نہیں جا ئیں گے۔ بو لیں گے۔۔ یہ تو مر گیا۔۔ ہمیں نہ مار دے کہیں۔ دو دور سے۔۔ دیکھ رہے ہیں۔ کیسے جنازے ہو رہے ہیں ؟

یہ تو انسان کی محبت ہے ۔ یہ تو انسان کی اوقات ہے ۔۔ تو جس کے پاس لوٹ کر جا نا ہے اور جس نے بنا یا ہے ۔ اسکی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔ اسکی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ اللہ فر ماتے ہیں ۔ جب تم ماں کے پیٹ تیار ہو رہے تھے نا ۔ وہ رب تمہیں اس وقت سے جا نتا ہے ۔ اس وقت تو والدین انسان کو نہیں جانتے۔ کتنا قریبی تعلق ہے۔ ہر ایک کا تذکرہ زبان سے کر ے گا۔ نہیں کر ے گا تو سب سے زیادہ قریب ہے۔ اس کا تذ کرہ نہیں کرے گا۔