دل میں سکون صرف اللہ کو رکھنے سے ملتا ہے

سکون کہاں ہوتا ہے؟ دل میں نہ ۔ سائنٹیفک تو دماغ میں ہوتا ہے۔ میں ابھی اس گہرائی میں نہیں جا رہا۔ یہ بہت سے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں ۔ کہتے ہیں بھائی یہ تو سارا دماغ کا کام ہے۔ دل کا کام تو صرف پمپنگ کرنا ہے۔ تو شریعت نے تو ہر چیز کی نسبت دل کی طرف کی ہے نا۔ دل میں سکون ، دل میں غور، غور و فکر کرو تو اس کی کیا وجہ یہ ایک الگ ٹاپک ہے۔

اگر میں اس پر چلا گیا نہ کہ بھائی اسلام نے دل کو کیوں متوجہ کیا ہے کہ ان کے سینوں میں دل نہیں ہے۔ یا ان کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ سخت تو اصل ان کی کھو پڑ ی ہو چکی ہوتی ہے۔ دماغ سخت ہو چکا ہوتا ہے۔ اثر نہیں ہو رہا ہو تا۔ تو وہ ایک الگ بات ہے ۔ اس اشکال کے جواب دے بھی چکا ہوں۔ ابھی میں اس طرف نہیں جاؤں گا۔

لیکن عام محاوروں میں نسبت میں دل ہی کی طرف ہو تی ہے۔ تمہارے دل میں اس کی محبت نہیں ہے۔ تو اس محاورے میں آپ کی دل سے جو مراد ہوتی ہے۔ میری بھی فلحال وہی مراد ہے۔ آگے بات آگے چلے نا۔ تو سکون کا محل کیا ہے؟ دل! خوشی کا محل کیا ہے ؟ محل کہتے ہیں جگہ کو ۔ خوشی کس جگہ پر ہوتی ہے ؟

دل میں ہوتی ہے۔ غم کہاں ہوتا ہے؟ دل میں غم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ تم نے میرا دل دکھا دیا ۔ تم نے تو آج میرے دل کو خوش کر دیا ۔ توانسان صبح شام سکون کی لیے کوششیں کر تا ہے۔ خوشی کے لیے کوششیں کر تا ہے۔ تو خوشی کے لیے انسان کی جو کوششیں ہوتی ہیں تو جب ان کو کوششوں میں کامیاب ہو تا ہے تو خوشی محض محسوس کہاں ہوتی ہے ؟

دل !!! تو پتہ یہ چلا ۔۔ دیکھیں انسان خوش ہوتا ہے اپنی محبوب چیز کے ملنے سے۔ایسے ہی ہے نہ۔ تو دل کب خوش ہوگا جب دل کو اسکی محبوب چیز ملے گی۔ دل چاہ رہا ہے یہ کھا لو ۔ کھا ؤ گے تو خوش ہو جاؤ گے۔ دل چاہ رہا ہے یہ کر لو ۔ وہ کام کر لیا تو خوش ہو جاؤ گے۔ دل چا ہ رہا ہے تو یہ چیز مل جائے۔

گاڑی مل جائے۔ مل جاتی ہے تو دل کیا ہوتا ہے ؟ دل خوش ہو جاتا ہے۔ تو سارا ہی مسئلہ دل کا ۔۔ !!!تو یاد رکھیں کہ دل کو خوش کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کو اس کی محبوب چیز ملے۔

تو جن چیزوں سےدل کو پہلے سے محبت ہے نا۔۔۔ وہ انسان کو ملتی ہی نہیں۔ ٹینشن والا مسئلہ یہ ہے۔ آپ کہیں بھائی جو اتنے لوگ خوش ہوتے ہیں ۔ ان کو دل کی پسندیدہ چیزیں مل جاتی ہیں تبھی تو خوش ہوتے ہیں نا۔۔ بھائی مسئلہ ہے دل میں بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے اس کی جب محبوب چیز ملتی ہے تو اس کے دل میں اس سے زیادہ کی خواہش پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔