دشمنوں کے شر سے مستقل چھٹکارا:

امام غزالی ؒ نے اس عمل کی بہت تعریف کی ہے اگر کوئی آدمی صرف اتنی پابندی کرلے کہ فجر کی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورت الانشرح اور دوسری رکعت میں سو رت الفیل پابند ی سے پڑھا کر ے تو وہ دشمنوں سے شر سے اور ان کی ایذا رسانی سے ہمیشہ محفو ظ رہے گا۔ دشمن جتنا جتن کرلیں اسے کوئی گزند نہ پہنچائیں گے۔

دشمنوں کی ہلاکت و بربادی اور خانہ ویرانی کا ایک اور مجرب طریقہ ہے کہ قمری ماہ کے آخری ایام میں منگل کے دن کا روزہ رکھیں اور سحری و افطاری میں جاندار یا اس سے نکلنے والی اشیائے خوردنی سے پرہیز کریں ( گوشت ، انڈا ، دودھ ، دہی، مکھن اور گھی وغیرہ)۔

پھر عشاء کی نماز کے بعد کسی خالی جگہ چلے جائیں جہاں کسی انسان کا آنا جانا نہ ہو (اگر باہر نہ جاسکیں تو اپنے گھر کی چھت پر یا کسی بند کمرے میں چلے جائیں) اور وہاں درمیان کی جگہ میں پہلے دوگانہ نفل ادا رکریں۔ پھر دو سو بار سورت الا خلاص پڑھیں۔

اس کے بعد سورت الفیل تَرْ مِیھِمْ تک ستر بار پڑھیں۔ اور یہاں پہنچ کر ہر بار لفظ ترمھم کو تین تین مرتبہ دھرائیں۔ جب ستر باریہ عمل پورا ہوجائے تو تَرْ مِیھِمْ بِحِجَا رَ ۃ۔۔۔ آخر تک پرھ کر سورت مکمل کر لیں۔ اس کے بعد یہ دعا دو سو مرتبہ پڑھیں۔ اَللّٰھُمَّ ارْمِ۔۔۔۔ (یہاں دشمن اور اس کی ماں کا نام لیں) بَھَلاَ کِکَ وَلَکَا لِکَ وَ دِ مَا ر کَ یا شَدِ یْدَ ا لْبَطْشِ یَا قَھَّا رُ۔ یہ عمل تین دن تک جاری رکھیں۔ انشاءاللہ ظالم کا نام ونشان ختم ہو جائے گا اور اس کا گھر ویران اور برباد ہو جائے گا۔

اس لیے ضروری ہے کہ یہ عمل صرف حقدار شخص کے لیے کیا جائے۔ جس شخص کے بارے میں اصلاح کی ذرا سی بھی امید ہو اس کے خلاف یہ عمل نہ کیا جائے۔ ف: آج کل امتِ مسلمہ بالعموم اور مسلمانانِ پاکستا ن بالخصوص جس طرح طرح چارو ں اطراف سے دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔ اور ہر طرف سے دشمن کے خطرات نے انہیں گھیر رکھا ہے ۔

اگر یہ پیغام عام مسلمانوں میں پھیلا دیا جائے اور صرف اتنے سے عمل کے لیے تیا ر کر لیا جائے ۔ کہ وہ امریکہ ، اسرائیل ، بھارت اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کے شر سے پاکستان اور امت مسلمہ کی حفاظت کے لیے فجر کی سنتوں میں ان دو سورتوں کا اہتمام کر لیں تو غیب سے امت مسلمہ کی حفاظت اور دشمنانِ دین حنیف کی بربادی کے اسباب مہیا ہو جائیں گے۔