سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے سے عشق مصطفیٰ ﷺ پیدا ہوتا ہے

میرے آقا کی سنت پر عمل کرنا ، سنت کا احترام کرنا عشق ِ رسول ﷺ کی تکمیل میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جتنا سنت پر عمل کروگے اتنا ہی ایمان روشن ہوگااور سرکار کی سنت کا احترام کرنا بھی ایک عاشق رسول کے لیے اتنا ہی لازم ہے جتنا کہ اس کا عشق رسول کا دعوٰی کرناہے۔

سرکار کی سنتوں کا مطالعہ کریں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ آداب سنت کیا ہیں؟ اور سرکار کی سنت کیا ہے؟ حضور پاک ﷺ نے اپنی سنتوں پر عمل کرنے اور اس سنت کے ذریعے ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے اپنے امتیوں کو کیا حکم جاری کیا ہے۔

1 السلام علیکم! کے بارے میں مکمل عمل کرنا سلام کا جواب دیان وغیرہ۔ 2۔ مصافحہ کرنا اور مصافحہ کا صیحح طریقہ۔3۔ حجرا سود کا بوسہ لینا 4۔ سنت سمجھ کر اپنے والدین کی دست بوسی کرنا۔5۔ حضور پاکﷺ کی سنت کے مطابق گفتگو کرنا اور کسی مسلمان کو تکلیف نہ دینا۔6۔ فضول اور بے ہودہ بات چیت سےبچنا (ایک چُپ سو سکھ)۔7۔ کھانے کے آداب سنت طریقے سے ادا کرنا۔ 8۔ ہاتھ دھو کر اور “بسم اللہ الرحمن الرحیم ” سے کھانے کا آغاز کرنا۔

حضرت عمربن ابو مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں لڑکپن کی حالت میں اور رسول اللہ ﷺ کی زیر کفا لت تھا جبکہ میرا ہاتھ پیالے ہر طر ف چلتا تھا پس رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا برخودار “بسم اللہ ” پڑھو دائیں ہاتھ سے کھا ؤ اور اپنے سامنے سے کھایا کر۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک بدھو آیا اور اس نے وہ لقمے کھائے حضوراکرمﷺ نے فرمایا وہ اگر”بسم اللہ” کہتا تو کھانا تمہں کافی ہوجاتا ۔ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو “بسم اللہ ” کہے۔ اگر ابتداء میں “بسم اللہ ” کہنا بھولے جائے تو وہ یوں کہے “بسم اللہ فی اولہ واخرہ”9۔ سنت طریقے سے پانی پینا، پانی آجائے تو دیکھ کر پینا، بیٹھ کر پینا کہ یہ سرکار کی سنت ہے ۔

البتہ آب زم زم شریف کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف منہ کرکے پینا سنت ہے۔ 10۔ نماز میں سنتیں اور نوافل پڑھنے سے عشق مصطفی ٰ پیداہو تا ہے ۔ 11۔ مہمان نوازی حضور نبی کریم ﷺ کی سنت سمجھ کر کرنا۔