صحابی رسول ﷺ حضرت ابو مسلم خولانی ؓپر آگ گلزار بن گئی

جھوٹی نبوت کے دعویدار اسو د عنسی بن قیس نے اپنی بدبختی سے اپنے نبی ہونے کا اعلان کر دیا اور کچھ بد بخت لوگوں کو اپنے ساتھ ملالیا۔ حضرت ابومسلم خولانی رضی اللہ عنہ عشق مصطفیٰ ﷺ کی شمع دل میں روشن کئے اسی علاقے میں رہتے تھے۔

کذاب اسود عنسی نے اس عاشق ﷺ کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ تم اقرار کر و کہ میں اللہ کا رسول ہوں عاشق رسول ﷺ نے اس کو جھٹلادیا اور اقرار نہ کیا۔ دوسرا سوال کیا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں عاشق رسول ﷺ نے فوراً جواب دیا کہ ہاں میں گواہی دیتا ہوں ی سوال تین بار دہرایا گیا عاشق رسول ﷺ نے اسے تین مرتبہ جواب دیا۔

عاشق رسولﷺ کی اپنے آقا سے محبت دیکھ کر اور اس کے دل میں عشق مصطفی ٰ ﷺ کی عظمت اور ایمان کو دیکھ کر جھوٹی نبوت کے دعویدار اسودعنسی سخت غصے اور طیش میں آگیا اس نے اپنے ملازموں اور اپنے حواریوں کو بلایا اور حکم جاری کیا کہ فوراً آگ جلائی جائے اور آگ کے شعلے آسمانوں تک جائیں تاکہ حضور پاک ﷺ کے اس سچے عاشق کو عبر ت ناک سزاد ی جائے۔

چنانچہ آپ کو آگ میں ڈالا مگر آگ نے اس صحابی رسول کا گلزار بن کر استقبال کیا دشمنانِ رسول آگ میں پھینک رہے ہیں لیکن آگ پھولو ں کی طرح سرکار دو عالم ﷺ کے صحابی کا استقبال کررہی ہے۔

آگ صحابی رسول پر گلزا ر بن گئی آگ نے صحابی رسول سے محبت کرتے ہوئے اسے کچھ نہ کہا آگ کے شعلوں نے عاشق رسول ﷺ کے دوست بن کر پوری کائنات کو پیغام دے دیا کہ اے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ساری مخلوق اگر تمہارے د ل میں سرکار دو عالم ﷺ کی محبت ہے تو اس کا اظہار میر ی طرح کرو۔

عاشق رسول ﷺ ابو مسلم خولانی کو اسو عنسی نے اس کو بنا پر رہا کر دیا کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے اس کی جھو ٹی نبوت کی جگ ہنسائی ہوگی اور آگ کے گلزار کے واقعہ کے بعد اس کی جھوٹی نبو ت کا راز کھل جائے گا اور ان کو ایمن سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

حضرت ابو مسلم خولانی نے دنیا والوں کا ظلم وستم برداشت کرنے کے بعد اپنے آقا اور امن کے شہر کی طرف جانے کا ارادہ کیا اور مدینہ پاک میں حا ضر ہو کر مسجد نبوی میں نماز ادا کی اور اپنا سامان رکھا۔