رسول پاکﷺ کے حصے کا دودھ جب ایک صحابی نے چھپ کر پی لیا

ایک صحابی ؓ جس نے نبی پاکﷺ کے حصے کا دودھ چھپ کر پی لیا تھا ۔حضرت مقداد ؓ یہ روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دوساتھی مدینہ ہجرت کرکے آئے اور ہمارے کان اور آنکھیں مشقت کیوجہ سے متاثر ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ پر پیش کرنے لگے کہ کسی کے ساتھ ٹھہر جائیں

مگر کسی نے ہمیں قبول نہ کیا تو ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے ۔ آپﷺ ہمیں اپنے گھر لے گئے تو وہاں تین بکریاں تھیں۔نبیﷺ نے فرمایا ان کا دودھ ہم سب کیلئے دوھ لیا کرو۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم دودھ دوہتے اور ہم میں سے ہر شخص اپنا حصہ پی لیتا اور ہم نبی کریم ﷺ کیلئے آپؐ کا حصہ رکھ دیتے وہ کہتے ہیں کہ رات کو آپﷺ تشریف لاتے اور اتنی آواز میں اسلام اعلیکم کہتے کہ سونے والا بیدار نہ ہو اور جو جاگ رہا ہو وہ سن لے ۔ کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ مسجد تشریف لے جاتے اور نماز پڑھتے ۔

پھر اپنے حصے کا دودھ لیتے اور نوش فرماتے ۔کہتے ہیں کہ ایک رات میرے پاس شیطان آیا جبکہ میں اپنا حصہ پی چکا تھا یعنی شیطانی خیال میرے دل میں آیا۔ اس نے کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ انصار کے پاس جاتے ہیں اور انصار آپﷺ کو تحفہ پیش کرتے ہیں آپﷺ کو اس گھونٹ کی یعنی تھوڑے سے دودھ کی جو آپﷺ کے حصے کا رکھا ہوا تھا کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

چنانچہ کہتے ہیں میں نے وہ حصہ جو آنحضرتﷺ کیلئے رکھا ہوا تھا وہ لیکر پی لیا۔جب وہ میرے پیٹ میں چلا گیا میں جان گیا کہ اب اس کے حصول کی کوئی راہ نہیں۔ بس یہ اب واپس نہیں آسکتا تو کہتے ہیں کہ شیطان نے مجھے نادم کیا اور کہا کہ تیرا برا ہو یہ تونے کیا کیا تونے محمدﷺ کے حصے کا دودھ پی لیا ہے ۔

وہ تشریف لائیں گے اور اسے نہ پائیں گے تو وہ تیرے خلاف دعا کریں گے اورتو ہلاک ہوجائیگا اور تیری دنیا وآخرت تباہ ہوجائیگی۔کہتے ہیں کہ میرے اوپر ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر باہر رہ جاتا اور جب سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں باہر نکل جاتے اورمجھے نیند نہ آتی تھی ۔ میرے دونوں ساتھی تو سوگئے تھے ۔

انہوں نے وہ نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا یعنی وہ دودھ پی لیا تھا کہتے ہیں کہ پھر نبی کریمﷺ تشریف لائے آپﷺ نے اسلام علیکم کہا جیسے کہا کرتے تھے ۔پھر مسجد گئے اور نماز پڑھی یعنی نفل پڑھے ۔ پھر اپنے مشروب کی طرف آئے دودھ کا جو برتن رکھا ہوا تھا اس کی طرف آئے ۔ اس کا ڈھکنا اٹھایا تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

آپﷺ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا۔کہتے ہیں میں جاگ رہا تھا۔سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ اب آپﷺ میرے خلاف دعا کریں گے یعنی مجھے بددعا دیں گے اور میں ہلاک ہوجاؤں گا۔لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ اے جو مجھے کھلائے اسکو تو کھلا اور جو مجھے پلائے تو اسکو پلا۔ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے اپنی چادر لی ۔

اپنے اوپر مضبوطی سے اسے باندھا۔ جاگ تو میں رہا تھا اور چھری لے کر باہر گیا کہ یہ جو باہر بکریاں کھڑی ہیں ان میں سے جو سب سے اچھی ،موٹی صحت مند بکری ہے اسکی طرف چل پڑا کہ اسے رسول اللہﷺ کیلئے ذبح کروں۔کہتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اسکے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ ان سب کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے یعنی ساری بکریوں کے پھر میں حضورﷺ کے گھروالوں کا ایک برتن لایا۔

ان کو خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ اس میں دودھ دوھ کر اس کو بھریں گے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ اس کے اوپر تک جھاگ آگئی ، برتن پورا بھر گیا۔میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپﷺ نے فرمایا کیا تم لوگوں نے آج رات اپنے حصے کا دودھ پی لیا تھا؟

حضرت مقداد ؓ کہتےہیں میں نے کہا یا رسول اللہﷺ یہ نہ پوچھیں آپﷺ یہ دودھ پئیں آپﷺ نے پیا پھر مجھے دے دیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اور پئیں آپﷺ نے پھر پیا پھر مجھے دے دیا جب مجھے محسوس ہوا کہ نبی کریم ﷺ سیر ہوگئے ہیں آپ ﷺ کا پیٹ بھر گیا ہے ۔

جتنی آپﷺ کی خوراک تھی اتنا دودھ آپﷺ نے پی لیا ہے اور یہ بھی مجھے خیال آیا کہ میں نے اب آنحضرت ﷺ کی دعا بھی لے لی ہے ۔ یہی دعا کی تھی ناں کہ اللہ جو مجھے پلائے اور اس کو پلا اور جو مجھے کھلائے اسو کو کھلا ۔ کہتے ہیں اب دودھ بھی پلا دیا تھا اور میں نے دعا بھی لے لی تو میں ہنس پڑا اور میں اتنا ہنسا کہ بے اختیار زمین پر جا رہا۔ یعنی یہاں تک کہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا۔

کہتے ہیں کہ جب آپﷺ نے مجھے ہنستے دیکھا تو اس پر نبی کریمﷺ نے فرمایا اے مقداد تیری کوئی شرارت ہے مجھے لگتا ہے تم نے کوئی شرارت کی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ یوں ہوا ہے اور میں نے یہ کیا تھا اور ساراقصہ سنا دیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے ۔ یہ بات تونے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی تاکہ ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو جگالتیے وہ بھی اس سے پیتے ۔

رحمت سے حصہ پاتے۔کہتے ہیں میں نے کہا اس کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب آپﷺ نے وہ رحمت پالی اورآپﷺ کے ساتھ میں نے بھی وہ رحمت پالی تو اب مجھے کوئی پروا ہ نہیں کہ لوگوں میں سے کون اسے حاصل کرتا ہے ۔مجھے تو اپنی فکر تھی کیونکہ میں نے وہ جرم کیا تھا۔