حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ضیافت میں برکت

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب آنحضرت ﷺ پتھر توڑنے کےلیے ایک خندق میں اترے تو بھوک کی وجہ سے پیٹ مبارک پرپتھر باندھے ہوئے تھے جب میں نے آپ کو اس حالت میں دیکھا تو اپنے پیٹ کے پتھر کو کھول کر گھر آگیا

اور اپنی اہلیہ کو سارا قصہ سنایا اس نے مجھے گھر میں ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے میں نے جو کا آٹا گوندھا اور بکر ی کا بچہ ذبح کیا اور دیگ میں ڈال کر آپ ﷺ کی خدمت میں عرض گزار ہوا میری اہلیہ نے مجھے کہا کہ تمام صورت حال آنحضرت ﷺ کو بتا دینا کہ بعد میں ہمیں ندامت نہ ہو میں نے آہستہ آہستہ آنحضرت ﷺ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے تمام خندق کھونے والوں کو بلند آواز سے بلایا اور فرمایا۔

آج ہمارے جابر رضی اللہ عنہ نے تمہاری ضیافت کی ہے سب چلے آؤ کھانا کافی ہے۔آنحضرت ﷺ نے مجھے فرمادیا کہ اپنی اہلیہ کو بتا دینا جب تک میں نہ آجاؤں دیگ سے پوش نہ اتارے اور نہ ہی روٹی پکائے میں نے مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے یہ بات اپنی اہلیہ کو سمجھا دی کہ حضور اکر م ﷺ نے سب کو دعوت دے دی ہے۔

مہاجرین و انصار سب آرہے ہیں اس نے کہا کہ اگر حضو ر اکرم ﷺ نے دعوت دی ہے تو کوئی ڈر نہیں جب آنحضرت ﷺ تمام لوگوں کو لے کر ہمارے گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا گروہ در گروہ چلے آؤ اور ادھر مجھے حکم دیا آٹا لے آؤ میں آٹا لایا تو آپﷺ نے اس میں لعاب دہن ڈالا اور خدائے تعالیٰ سے خیر وبرکت کی دعا مانگی۔

پھر حکم دیا کہ روٹی پکانے والے کو بلاؤ تا کہ روٹی پکائے میں تنور سے روٹیاں اور دیگ سے گو شت لوگوں کو کھلاتا جاتا وہ سب کے سب سیر ہو کر چلے گے مگر طعام کافی مقدار میں بچا رہا یعنی سارے لشکر نے کھانا سیر ہو کر کھایا۔۔ لیکن لعاب دہن کی برکت سے کھانا بچ گیا۔ حضرت جابر بن رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خندق کھودی گئی

تو میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا، اور پوچھا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا…..اس نے ایک تھیلا نکالا ، جس میں ایک صاع جو تھے، اور ہمارے پاس ایک بکری کا بچہ پلا ہوا تھا، میں نے اسے ذبح کیا،اور میری بیوی نے آٹا پیسا، وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی۔

میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا اس کے بعد میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا.جب میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو چپکے سے عرض کیا: ” یا رسول اللّٰہ ہم نے ایک بکری کابچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا ہمارے پاس تھا، وہ تیار کیا ہے۔ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم چند لوگوں کے ساتھ تشریف لے چلئے۔

”چنانچہ میں وہاں سے آیا، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور آپ صلی اللّٰہ سب لوگوں کے ساتھ آگے تھے، میں اپنی بیوی کے پاس آیا…وہ بولی !”تمہاری ہی فضیحت و رسوائی ہوگی۔ میں نے کہا ، میں نے وہ ہی کیا جو تونے کہا تھا۔”