سودکی حرمت سیرت النبیﷺ کی روشنی میں

دینِ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے زندگی گزارنے کےتمام اصول قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے ذریعے وضع فرمائے ہیں، جن کی بنیاد آفاقی اور عالمگیر ہے اور جو عالمِ اِنسانیت کے لئے خیر اور بھلائی ہے- دنیا کاکوئی انسان جس بھی کونے سے تعلق رکھتا ہو اس سے استفادہ حاصل کر سکتا ہے-

عرب معاشرے میں اسلام سے پہلے بہت سے نازیبہ عمل اور رسم و رواج تھے جن سےمظلوم انسانیت چکی میں پِس رہی تھی اور ان کا استحصال ہو رہا تھا- اس استحصال سے بچنے کے لیے دین اسلام نے کچھ قوانین لاگو کیے جس میں ربا یعنی سود کا خاتمہ بھی شامل ہے-علامہ زبیدی لکھتے ہیں کہ علامہ راغب اصفہانی نے کہا ہے کہ اصل مال پر زیادتی کو ربا کہتے ہیں

اور زجاج نے کہا ہے کہ ربا کی دو قسمیں ہیں ایک ربا حرام اور دوسرا حرام نہیں ہے- ربا حرام ہر وہ قرض ہے جس میں اصل رقم سے زیادہ وصول کیا جائے یا اصل رقم پر کوئی منفعت لی جائے اور ربا غیر حرام یہ ہے کہ کسی کو ہدیہ دے کر اس سے زیادہ لیا جائے –

اسلام سے پہلے عرب میں ربا کا تصور یہ تھا کہ اگر کو ئی قرض لیتا اور وقت پر واپس نہ کرتا تو اس کو وہ معاوضہ دگنا کر کے واپس دینا ہوتا تھا اور اگر پھر بھی وقت پر واپس نہ کرتا تو اس کو پھر وہ معاوضہ اور بھی دگنا کر کے واپس کرنا پڑتا تھا چاہےوہ پیسوں کی صورت میں ہو یا مال و متاع یا کسی ساز و سامان کی صورت میں-

جب بھی قرض دیا جاتا تھا تو وقت اور مقدار کا تعین پہلے سے کر لیا جاتا تھا- ربا کو دین میں سختی سے منع کیا گیا ہے – قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بھی کافی جگہ پر ربا کی حرمت کے متعلق فرمایا گیا ہے -اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ (تمہارا اثاثہ) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے

تو وہ اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اﷲ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عنداﷲ) کثرت سے بڑھانے والے ہیں‘‘-قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ سودی کاروبار کرنے والا قیامت کے دن اور دنیا میں بھی ہرگز انعام یافتگان میں شامل نہیں ہوگا-

اس کے بعد مدنی سورت ’’سورہ آل عمران‘‘ میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃًص وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘’’اے ایمان والو! دو گنا اور چوگنا کر کے سود مت کھایا کرو اور اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘-

و لوگ سُود کھاتے ہیں وہ (روزِ قیامت) کھڑے نہیں ہو سکیں گے مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان (آسیب) نے چھو کر بدحواس کر دیا ہو، یہ اس لیے کہ وہ کہتے تھے کہ تجارت (خرید و فروخت) بھی تو سود کی مانند ہے،

حالانکہ اﷲ نے تجارت (سودا گری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے، پس جس کے پاس اس کے رب کی جانب سے نصیحت پہنچی سو وہ (سود سے) باز آ گیا تو جو پہلے گزر چکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اﷲ کے سپرد ہے اور جس نے پھر بھی لیا سو ایسے لوگ جہنمی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘-