جس دعا سے نابینا صحابی کو آنکھیں مل گئیں

احادیث کی کتب میں ایک واقعہ منقول ہے کہ ایک نابینا صحابی حضو ر انور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ! میرے لئے دعا فرما ئیں کہ میری بینائی بحال ہو جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم صبر کر و تو آخر ت میں تمہارے لئے اس زیادہ اجر ہے۔ انہیں آپ ﷺ کے دیدار کا شوق مضطرب کئے دے رہاتھا۔

وہ آپ ﷺ کا دیدار نہ ہوسکنے پر کہاں صبر کرتے ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میرے لئے دعا ہی فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرما یا وضو کرکے آؤ۔ وہ اٹھے اور وضو کرکے دوبارہ حاضر خدمت ہوئے۔ آپﷺ نے یہ دعا سکھلائی۔ انہوں نے ایک ہی بار ی دعا پڑھی تو بینائی بحا ل ہوگئی۔

دعایہ ہے:“اَللّٰھُمَّ اِ نِّیْ اَ سْئَلُکَ وَ اَ تَوَ جَّہُ اِ لَیْکَ بِنَبِیّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ ا لرَّ حْمَۃِ۔ یَا مُحَمَّدُ ! اِ نِّیْ اَ تَوَ جَّہُ اِ لٰی رَ بِّیْ فِی حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ اَللّٰھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیَّ۔” اس حدیث مبارک کی روشنی میں حضوراکرمﷺ نے صحابی کو ایک ہی بار یہ دعا کہلوائی اور انہوں نے ایک ہی بار پڑھی تو اللہ تعا لیٰ نے ان کی آنکھوں کو بصارت سے نواز دیا۔ کیا ہم بھی ایک بار پڑھیں تو ایسا ہو نا ممکن ہے؟

اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے۔ پہلا تو یہ کہ جی ہاں ! بالکل ممکن ہے ! لیکن ایک بار پڑھنے کے لئے طہارت سے لبریز زبان اور حسنِ اعتقاد اور یقین کامل سے لبریز دل بھی درکار ہے ! اگر کامل اعتقاد سے کوئی پابند شریعت شخص ایک بار بھی یہ دعا پڑھے گا تو اس کی حاجت یقیناً روا ہوجائے گی۔

دوسرا جواب اسی پہلے جواب سے جھلکتا ہوا نظر آتا ہے کہ آج جب زبانوں میں وہ پاکیزگی اور طہارت نہیں رہی ۔ اعمال میں نہ اسلاف ولااخلاص ہے نہ پختگی ! قلوب واذھان یقین واذعان کی دولت سے محروم ہیں تو پھر ایک بار پڑھنے سے صحابی رسول والی تا ثیر کی امید ان اعمال واحوال کے ساتھ کر نا جو ہم کررہے ہیں۔

احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہے!صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین والدین کی فرمانبرداری میںانتہائی بے مثال تھے لیکن باپ کی ذات پر محبت رسول ﷺ کو ترجیح دیتے تھے حتی کہ محبت رسول ﷺ میں اپنے والدین کو قربان کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اپنے لیے فخر سمجھتے کہ ہمارے ہاتھوں سے گستاخ رسول ﷺکا قتل ہوچاہے سگا باپ ہی کیوں نہ ہو ۔

غزوہ بدر میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بے خوف و خطر دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگےبڑھتے جارہے تھے آپ کی حالت کو دیکھ کر دشمن کی صفوں میں بھگدڑ مچ گئی جونہی آپ کسی شہسوار کے سامنے آتے وہ گھبرا کر طرح دے جاتا لیکن ان میں سے ایک شخص ایسا تھا جو آپ کے سامنے اکڑ کر کھڑ اہوگیا

اور تلوار کا وار کرنے کی کوشش کی لیکن آپ نے پہلو تہی اختیار کی وہ شخص آپ کے مقابلےکےلیے بار با ر سامنے آتارہا لیکن آپ مسلسل طرح کردیتےرہے لڑائی کے دوران ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اس شخص نےآپ کو گھیرے میں لے لیا جب سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کےلیے تمام راستے بند ہوگئے تو آپ نے مجبور ہو کر اس کے سر پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا جس سےاسکے سر کے دو حصے ہوگئے اور آپ کے قدموںمیں ڈھیر ہوگیا

یہ دیکھ کر دنیا آنگشت بدنداں رہ گئی کہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہونے والا شخص انکا باپ تھا ۔آپ کا یہ کار نامہ اللہ تعالی کو اتنا پسند آیا کہ آپ کی شان میں قرآن نازل فرمایا کہ