حضرت نوح علیہ السلام اور محبت ِ رسول کریم ﷺ

حضرت نوح علیہ السلام کو نبی کریمﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی آپ نے اپنی امت کو اپنی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی اطاعت کرنے کی وصیت کر دی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام چونکہ آدم ثانی ہیں اور طوفانِ نوح کے بعد ان کی ہی نسل انسانی اور نسل انبیاء کرام بنی ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی 950 سال کی تبلیغ ان کی قوم پر اثر نہ کرسکی اور ان کی نا فرمان بد بخت قوم نے ان کو مار کر لہولہان کر دیتی تھی اور ان کی بیوی (والہہ) ان کی عزت نہ کرتی تھی چنانچہ آپ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے کہنے پر ایک کشتی تیا ر کی ۔

اور اس کشتی کا طول 1000 گز اور عرض چارسو گز تھا ۔اس کے ہر تختے پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ایک لاکھ چوبیس ہزار رسولوں کے نام لکھے گئے اور آخر ی تختہ پر محبت رسول ﷺ کے ساتھ سرکاردو عالم ﷺ کے نام کے علاوہ جب چار تختے کم نکلتے تو حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ چارتخت حضرت صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام کے ہیں۔

جب تک ان چار یاروں کے تختے نہیں لگیں گے کشتی محفوظ نہیں ہوگی۔ اور جس مومن کے دل میں ان چارصحابہ کرام کی محبت ہوگی وہ دوزخ سے نجات پائے گا۔ چنانچہ آپ کی گستاخ بیوی اور بیٹا دونوں طوفان میں غرق ہوئے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے 1240 سال عمر پائی اور طوفان کے بعد 250 سال تک زندہ رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جن اُمتوں کوعبرت بنایاان کے متعلق ہمیں بارہا آگاہ کیا،ان کے تذکرے کیے،ان کے اعمال،ان کی عادات و خصائل کو بیان کیا تاکہ اُمتِ مصطفےٰ (ﷺ) ان سے نصیحت و سبق حاصل کرے-یعنی ان جیسے برےافعال کو چھوڑدو نیک افعال کو اپنا لو تاکہ تم آسانی کے ساتھ گوہر مراد کو پاسکو-

جس طرح قوم عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط، قومِ شعیب اور دیگر اقوام کا ذکر کیا انہی میں سے ایک قومِ نوح ہے-مقاتل نے کہا ہے کہ ان کانام السکن ہے ایک قول ہے کہ ان کانام الساکن ہے طبری نے کہا کہ ان کا نام عبدا لغفار ہے اور بہت زیادہ رونے کی وجہ سے ان کا نام نوح ہوگیا نوح کا معنی نوحہ کرنایعنی رونا –

ایک دن انہوں نے کتے کو دیکھ کر دل میں کہا یہ کس قدر بد شکل ہےاللہ تعالیٰ نے اس کتے کو گویائی دی اس نے کہا اے مسکین!آپ نے کس پر عیب لگایا ہے نقش پر یا نقاش پر اگر نقش پر عیب ہے، اگر میرا بنانا میرے اختیار میں ہوتا تو میں خود کو حسین بنالیتا اگر نقاش پر عیب ہے تو وہ خوداللہ تعالیٰ ہے اور اس کی ملک پر اعتراض کرنا جائز نہیں –نوح (علیہ السلام)نے جان لیا کہ اس کتےکو اللہ تعالیٰ نے گویائی دی ہے پھر وہ اپنے اس خیال میں چالیس(۴۰) سال تک روتے رہے‘‘-

Leave a Comment