فجر کی دو رکعت نماز سنت کیسے پڑھیں؟

فجر کی سنتوں میں کیا پڑھا جائے؟فجر کی سنتوں میں چھوٹی سورتیں پڑھنی چاہئیں جیسے ایک جگہ پر آتا ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سور ہ اخلاص پڑھنی چاہئے اور اس کے مقابلے میں طویل نماز کون سی ہونی چاہئے یا پھر فجر کے فرض ۔

نبی ﷺ دو رکعتیں ہلکی پڑھتے دو رکعتیں جو صبح کے فرائض سے پہلے پڑھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عائشہ ؓ پوچھتی تھیں کہ آپ نے سورہ فاتحہ پڑھی؟قراءت بھی تیز ہوتی تھی نہ صرف یہ کہ سورتیں چھوٹی ہوتی تھیں بلکہ پڑھنے کا انداز بھی تیز ہوتاتھا ۔کیونکہ فجر کی نماز میں امام ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہے۔

لیکن پہلے کی سنتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔فجر کی فرض سے پہلے دو رکعت سنت تمام سنتوں میں سب سے زیادہ موٴکد ہے، حدیث میں اس کی بڑی فضیلت اور تاکید آئی ہے، ایک حدیث میں ہے: رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیہا فجر کی دو رکعت سنت دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ”فجر کی دو سنت پڑھا کرو

اگرچہ تمھیں گھوڑے روند ڈالیں اس لیے اگر فجر کی جماعت شروع ہوجانے کے بعد کوئی شخص مسجد میں حاضر ہوا اور توقع یہ ہے کہ وہ سنت پڑھ کر امام کو ردوسری رکعت کے قیام یا قعدہ میں پالے گا تو اسے سنت فجر ترک نہ کرنا چاہیے بلکہ اس کو چاہیے کہ سنت ادا کرکے پھر جماعت میں شریک ہوجائے، لیکن یہ سنت کسی دیوار یا ستون کی آڑ میں صفوں سے باہر ہوکر ادا کرنی چاہیے۔

صفوں کے بیچ میں یا صف سے بالکل لگ کر ادا نہ کرے اور اگر ایسے وقت میں پہنچا کہ جماعت کی نماز آخری مرحلے میں تھی اور اتنا وقت نہیں کہ سنت پڑھ کر امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ اگر سنت پڑھنے میں لگا تو جماعت بالکلیہ فوت ہوجائے گی،

ایسی صورت میں اس کو چاہیے کہ سنت کو چھوڑکر جماعت میں شامل ہوجائے، پھر اگر سنت فجر بعد میں پڑھنا چاہے تو فجر کے بعد طلوعِ شمس سے پہلے نہ پڑھے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے، بلکہ طلوعِ شمس کے بعد مکروہ وقت ختم ہوجانے کے بعد پڑھ لے۔