“بِسْمِ اللہُ الرَّحَمٰنِ الرِّحِیْمِ “کا خاص وظیفہ

ہمارے آقا حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر کام سے پہلے بِسْمِ اللہُ الرَّحَمٰنِ الرِّحِیْمِ پڑھو اس سے برکت ہوتی ہے ۔ کسی نبی علیہ السلام کی قوم کو اس جیسا مبارک اسم عطانہیں ہوا۔ یہ اسم اعظم ہے اس کے پڑھنے سے ہر مشکل دور ہوتی ہے ۔ رزق میں برکت ، دشمن سے نجات ، دولت کی فروانی ، گمشدہ کا واپس آنا ، ذہن اور حافظہ کا تیز ہونا، تنگدستی دور ہونا ۔

بچہ کی پیدائش میں سہولت ، اولاد کی زندگی ، قیامت کے روز آگ سے نجات کا عمل ، ہر بیماری کا علاج ، ظالم کی ہلاکت ، حبِ و بغض ، سفر ، کاروبار میں برکت ، قرض کی ادائیگی ، شادی کے لیے اسباب ملازمت کا حصول ۔

غرض بِسْمِ اللہُ الرَّحَمٰنِ الرِّحِیْمِ کے پڑھنے سے وہ کونسی دنیا کی مشکل ہے جو دور نہیں ہوتی، اور اگر کوئی روحانی زندگی اختیار کرنا چاہیے تو اسے صرف ایک یہی عمل کا فی ہے ۔ کسی امر میں مشکل پیش آئے تو صرف بارہ ہزار مرتبہ ایک جلسہ میں پڑھے ہر ہزار کے بعد دو نفل پڑھنے سے وہ مشکل آسان ہوجاتی ہے۔

بارہ دن کا عمل ہردنیاوی مشکل کودور کر دیتا ہے۔ یہ وہ عمل جس میں کسی اجازت کی ضرورت نہیں ۔ اس کاعامل دوسرے عاملین سے بے پرواہ ہوجاتا ہے۔ میں دعوٰی سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کا عمل آپ کو بے پروا کردے گا۔