یا رسول اللہ ﷺ میرا بیٹا قبول فرمائیں!

ایک ماں کی عشق رسول ﷺ میں لبریز دلی خواہش اور آرزو کا ذکر کرتا ہوں جس کے گھر میں کوئی مرد باقی نہ رہااور خدمت رسول ﷺ کے جذبے نے اس کو گھرمیں بے قرار کیا ہوا تھا اپنے آقا ﷺ کی محبت میں اس کے چہرے پر آنسوؤں کی جھڑی لگی رہتی ہے

کہ میں آقا ﷺ کی خدمت میں جہاد کے لیے کیا پیش کروں۔ مدینہ کی گلیوں ، بازاروں ، محلوں میں جہاد کی تیاری ہو رہی ہے، مائیں اپنے بچوں کو ، دلہنیں اپنے خاوندوں کو، بہنیں اپنے بھائیوں کو جہاد رسول ﷺ اور حکم ﷺ پر جان قربان کروانے پر تیار بیٹھی ہیں میرے پاس تو کچھ نہیں سوائے ایک معصوم اور چھ سال کے یتیم بیٹے۔

جس کا باپ جنگ بد ر میں جام شہادت سے سیراب ہوا۔ وہ اپنے بچے کو لے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوجاتی ہے اپنے بیٹے کو سرکاردو عالم ﷺ کی گود میں ڈال دیتی ہے یا رسول اللہ ﷺ میرے اس پیارے بچےکو جہاد کے لیے قبول فرمالیں حضور پاکﷺ ماں کی محبت کے جذبے کو اللہ دیکھ کر فرماتے ہیں کہ معصوم بچہ جہاد پر کیسے جا سکتا ہے؟

ماں عرض کرتی ہے اے اللہ کے رسول ﷺ یہ بچہ اس مجاہد کو عنایت فرما دیں کہ مجاہد اسلام کی جان پرجب کفار کے تیر چلیں گے اور تیروں کی بارش ہوگی تو یہ مجاہد میرے بیٹے کو آگے کرے گا۔

اور میرا بیٹا تیروں کے روکنے کے کام آئے گا۔ ماں کی اس محبت رسول ﷺ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر وقت طاری ہوگئی ۔ محسن انسانیت ﷺ بھی فراط اثر سے آبدیدہ ہوگئے۔ اور نبی کریم ﷺ حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ سے فرمایا ! جاکر اس بچے کی ماں سے کہہ دو کہ اس ننھی جان کی قربانی قبول کرلی گئی ہے ۔ قیامت کے دن وہ غازیانِ اسلام کی ماؤں ، صفوں میں اٹھاتی جائے گی۔ آج خدا کی ایک امانت سمجھ کر وہ اپنے بچے کی پرورش کا فرض انجام دے اور خد ا کے یہاں بال بال کا اجر محفوظ ہے۔

Leave a Comment