ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا

حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا حضور پاک ﷺ کے عقد میں سب سے پہلے آنے والی عظیم خاتون جن کے کردار اور پاکیزہ زندگی کی مثالیں دی جاتی تھیں اور حضور پاکﷺ کی بعثت سے قبل آپ طاہرہ کے لقب سے جانی جاتی تھیں اور حضور پاکﷺ کے ساتھ شادی کے وقت بیوہ تھیں۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی تاجدار ِ مدینہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ رخ مصطفیٰ ﷺ دیکھتے ہی ان کے دل کو قرار آجاتا تھا آپ سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون تھیں نکاح کے بعد 25 برس زندہ ہیں اور ان کی زندگی میں حضور پاک ﷺ نے دوسری شادی نہ کی۔حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے اپنا سارا مال حضور پاکﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے اس وقت بھی ساتھ دیا جب تمام مکہ والے آپ ﷺ کے جانی دشمن بن گئے حضرت خدیجۃ الکبریٰ محبت سے آپ ﷺ کے لیے کھانا پکا کر غارِحرا میں لے کر آتی تھیں کیوں کہ آپ ﷺ اکثر اوقات غارِحرا میں عبادت الہیٰ میں اس قدر محور ہوتے تھے کہ کھانے کی بھی فکر نہ رہتی تھی

ایک دفعہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ غار حرا میں کھانا لے کر آرہی تھیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے آکر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ خدیجۃالکبری ٰ ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جس میں سالن اور کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ جب یہ آپ کے پاس آجائیں آپ ان کو اللہ کی طرف سے سلام اور میرا بھی سلام پہنچا دیں۔

انہیں بہشت میں موتیوں کے محل کی بشارت دیں۔ جس میں کوئی شورا اور تکلیف نہیں۔حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے ہجرت سے 3 برس قبل 65 برس کی عمر میں انتقال فرمایا آپ ﷺ نے ان کو قبر میں اتارا ان پر نماز جنازہ نہ پڑھی گئی کیوں کہ اس وقت نماز جنازہ فرض نہ ہوئی تھی ۔

حضرت خدیجۃا لکبری ٰ کے پاس کئی غلام اور باندھیاں تھیں لیکن آپ حضور پاکﷺ کی خود خدمت کرتی تھیں۔ حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ آپ کے ہی غلام تھے جو حضرت خدیجۃ الکبری ٰ نے حبیب اللہ ﷺ کی خدمت کےلیے وقف کردیا۔

Leave a Comment