عشق ِ مصطفیٰ اورحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے دانت

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ایک سچے عاشق ِ رسول تھے اور قرن ایک گاؤں ہے جو ملک یمن میں واقع ہے اسی وجہ سے آپ کو اویس قرنی کہتے ہیں۔ آپ کے والد کا نام عبداللہ (عامر)ہے۔ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اگرچہ حضور ﷺ کا زمانہ پایا لیکن دو چیزوں کی وجہ سے (ظاہری) دیدارِ رسول ﷺ سے محروم رہے۔

یہ دو وجہ غالبہ حال اور خدمت والدہ تھی۔” حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ملاقات میں سوال کیا۔ اُحد کے دن آپ ﷺ کے دندان ِ مبارک شہید ہوئے تو کونسے دانت تھے اور کیوں آپ نے موافقت کے لیے اپنے دانت توڑ ڈالے۔

اس کے بعد حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ کھول کر دکھایا کہ یہ سب دانت ٹوٹے ہوئے ہیں چونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ کونسے دانت شہید ہوئے ہیں اس لیے میں نے سب دانتوں کو توڑ ڈالا تب جا کر مجھے قرار آیا۔ اس بات کو سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی اللہ وجہہ پر رقت طاری ہوگئی اور کہنے لگے کہ منصب ادب کچھ اور ہی شئے ہے۔

اللہ اور اس کے رسول کی سچی محبت کے لیے اور عشقِ حقیقی سے مرصع اس عظیم ہستی کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ آج پوری کائنات میں جہاں بھی محبانِ رسول کا نام آئے گا وہاں خواجہ اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عشق کے بھی چرچے ہوں گے ان کو سرکار سے کتنا عشق تھا آپ خود بتا تے ہیں کہ مجھے مدینہ پاک جانے کا وقت ہی نہیں ملے سکا آپ حضور ﷺ کی محبت میں ہر وقت محور رہتے تھے ۔ اور تصور آقائے دو عالم ﷺ میں غرق رہتے ۔

حضرت اویس قرنی کوجناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بےحدعشق ومحبت تھی چنانچہ جب حضور ﷺکے صحابہ (رضی اللہ عنہم) نے ان سے ملاقات کی توحضرت اویس رحمۃ اللہ نے ان سے کہاکہ آپ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں یہ بتائیے کہ جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاکون سا دانت مبارک شہیدہوا تھا۔

آپ نے اتباعِ سنت میں اپنے تمام دانت کیوں نہ توڑ ڈالے یہ کہہ کراپنے تمام ٹوٹے ہوئے دانت دکھاکرکہاکہ جب دانت مبارک شہیدہوا تومیں نے اپناایک دانت توڑ ڈالا پھرخیال آیاکہ شاید کوئی دوسرادانت شہید ہوا ہواسی طرح ایک ایک کرکے جب تمام دانت توڑ ڈالے اس وقت مجھے سکون نصیب ہوا۔

یہ دیکھ کرحضور ﷺکے صحابہ پررقت طاری ہوگئی ۔