منگل کے دن کا مجرب ترین وظیفہ :ہر بلا ٹلے گی

منگل کے دن کا ایک طاقت ور اور مجرب ترین وظیفہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ جس کو کرنے سے آپ کی ہرمصیبت دور ہوجائےگی۔ جو بھی آپ کی مصیبت ہوگی اس وظیفہ کے کرنے سے دور ہوجائےگی ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر پریشانی کو دور کرے۔ اورجو لوگ پریشان حال ہیں اللہ ان کی پریشانیاں دور فرمائے۔

فرمان مصطفیٰﷺ ہے کہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں فرما تا ہے۔ اللہ کی نوری مخلوق ملائکہ بھی حضور اکرمﷺ پر ستر ہزار صبح اور ستر ہزار ملائکہ شام کو کثرت کے ساتھ آپ ﷺ پر درود پاک بھیجتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ آپﷺ پر کثرت کے ساتھ درود پاک بھیجیں۔ اب آپکو وظیفہ کے بارےمیں بتاتے ہیں جس کسی بھی ہفتے منگل کے دن کرنا ہوگا۔

اور وظیفہ شروع کرنے سے پہلے باوضو ہوناہے۔ اور اول وآخر تین تین مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے۔ ان کے درمیان یہ کلمات پڑھنے ہیں۔ “صَلی اللہُ عَلنْ النِّبِی وَالِہ وَسَلمْ” کو پڑھنا ہے ۔ اس کا ورد ایک ہزار مرتبہ کرنا ہے۔ اس کے بعد اسی جگہ بیٹھ کر اپنے ذہن میں جو بھی مصیبت ہو ، جو بھی آپ پر غم آیا ہواس کو اپنے ذہن میں تصور کرکےاللہ رب العزت سے دعا کرنی ہے۔ کہ رب کریم ہماری ہر تکلیف ، دکھ اور مصیبت کو دور فرما۔

انشاءاللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کی ہر تکلیف ، مصیبت اور دکھ کو دور فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر پریشانی کو دور فرمائےاور جو پریشان کن حال اللہ ان کی پریشانیاں دور فرمائےگا۔ جو لوگ بے روزگار ہیں اللہ کریم ان کو روزگار عطافرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر حاجات کو دور کرے گا۔ کیونکہ یہ ایک مجرب وظیفہ ہے ۔

انشاءاللہ ! اس کے کرنے سے اللہ پاک آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائےگا۔ آمین۔چنانچہ دہری آسانی پر تنہا مشکل غالب نہیں آ سکتی، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی موحد شخص کو مصیبت پہنچے تو اللہ تعالی جلد ہی اس کی مشکل کشائی فرماتا ہے، بلکہ انتہائی لطیف انداز سے اس کا تدارک بھی کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:اس لیے اپنے رب کی اطاعت کریں اسی کی طرف رجوع کریں، گناہوں اور نا فرمانیوں سے رک جائیں، رضائے الہی کا موجب بننے والے امور کی طرف بھر پور توجہ دیں،

صرف اُسی کی اطاعت کریں، حصولِ رضائے الہی کیلیے کوشش کریں، اللہ تعالی کی ناراضی سے دور رہیں، یہ تمام امور زندگی اور موت ہر حالت میں ہمہ قسم کے بحرانوں سے نکلنے کی مضبوط ترین بنیاد ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:تنگی و ترشی سے بچاؤ اور خوف و خطر سے نجات کا ذریعہ محض بشری طاقت کے تحت اپنائے جانے والے اسباب نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں ذریعۂِ نجات یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اور صحیح عقیدہ کو کتاب و سنت کی روشنی میں مضبوطی سے تھاما جائے؛

کیونکہ یہ قانونِ الہی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو تکلیفیں دیتا ہی اس لیے ہے کہ بندے توبہ کریں اور اللہ تعالی سے ناتا جوڑیں

Leave a Comment