بیٹی کی خوشی پر تبسم پر آقائے دو عالم ﷺ کا فرمان عالی شان ضرور سُن لیں

دنیائے اسلام اور اس زمین پر بسنے والے تمام مفسرین ، محدثین ، دانشور ، سائنس دان ، تمام مذہبی سکالر، تمام مذاہب کے پیشواؤں کو دعوت فکر دیتا ہوں اور بیٹی سے محبت کرنے اس کی پیدائش پر خوشی کا ظہار کرنے پر تاجدار مدینہ کے عظیم کردار کی طرف ان کی توجہ دلاتا ہوں اور چیلنج کرتا ہوں کہ میرے نبی ﷺ محسن انسانیت کے مقابلے میں تمہارے پاس اور ان سے بڑھ کر بیٹیوں سے پیار کرنے والا باپ ہے تو بتاؤ؟

میرے نبی ﷺ نے اس وقت بیٹی کو تعظیم اور عزت عنایت فرمائی جب دنیا والے بیٹی کی پیدائش پر طعنہ دیتے تھے۔بیٹی کی پیدائش ایک ماں باپ پر مصیبت اور پریشانی کا سبب بنا د ی جاتی تھی ۔ بیٹی کو گالی سمجھتے تھے اور پیدائش کے بعد اس کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔آئیں بیٹی کی پیدائش پر خوشی کیسے کی جاتی ہے؟

سیرت النبی ﷺ سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اور اس کو پڑھ کراے انسان تو اپنی بیٹی سےجاکر محبت کر، سنت رسول ﷺ پر عمل کر یہی محبت رسول ﷺ کا اظہار ہے اور سرکاردوعالم ﷺ کا پیغام ہے۔

اُم ایمن بڑی تیز رفتاری کے ساتھ جلدی جلدی بازار سے گزر رہی تھیں جب حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کی مڈ بھیر ہوئی تو ان کے چہرے پر خوشی چھائی ہوئی تھی ۔حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں:”تم کس مصیبت میں گرفتار ہو اور تم اس طرح کیوں بھاگ رہی ہو؟ “جواب دیا میں الصادق الامین ﷺ کی طرف خوشخبری لے کر جارہی ہوں”َ۔

دنیائے اسلام اور اس زمین پر بسنے والے تمام مفسرین ، محدثین ، دانشور ، سائنس دان ، تمام مذہبی سکالر، تمام مذاہب کے پیشواؤں کو دعوت فکر دیتا ہوں اور بیٹی سے محبت کرنے اس کی پیدائش پر خوشی کا ظہار کرنے پر تاجدار مدینہ کے عظیم کردار کی طرف ان کی توجہ دلاتا ہوں اور چیلنج کرتا ہوں کہ میرے نبی ﷺ محسن انسانیت کے مقابلے میں تمہارے پاس اور ان سے بڑھ کر بیٹیوں سے پیار کرنے والا باپ ہے تو بتاؤ؟

میرے نبی ﷺ نے اس وقت بیٹی کو تعظیم اور عزت عنایت فرمائی جب دنیا والے بیٹی کی پیدائش پر طعنہ دیتے تھے، بیٹی کی پیدائش ایک ماں باپ پر مصیبت اور پریشانی کا سبب بنا د ی جاتی تھی ۔ بیٹی کو گالی سمجھتے تھے اور پیدائش کے بعد اس کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔

آئیں بیٹی کی پیدائش پر خوشی کیسے کی جاتی ہے؟ سیرت النبی ﷺ سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اور اس کو پڑھ کراے انسان تو اپنی بیٹی سےجاکر محبت کر، سنت رسول ﷺ پر عمل کر یہی محبت رسول ﷺ کا اظہار ہے اور سرکاردوعالم ﷺ کا پیغام ہے۔

اُم ایمن بڑی تیز رفتاری کے ساتھ جلدی جلدی بازار سے گزر رہی تھیں جب حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کی مڈ بھیر ہوئی تو ان کے چہرے پر خوشی چھائی ہوئی تھی ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں:”تم کس مصیبت میں گرفتار ہو اور تم اس طرح کیوں بھاگ رہی ہو؟ “جواب دیا میں الصادق الامین ﷺ کی طرف خوشخبری لے کر جارہی ہوں”َ۔

Leave a Comment