قید سے خلاصی و نجات کا تیز ترین وظیفہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!جو بندہ خود قید میں ہو یا کسی کا بھائی کسی کا بیٹا کسی کا رشتہ دار وہ اندرون ملک یا بیرون ملک پھنسا ہوا ہے قید میں ہے اور کوئی نکلنے کا راستہ نہیں ہے قید سے خلاصی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آرہا اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں اور سب سے پہلے تو کثرت سے استغفار کیاکریں

اس کے لئے اپنے رشتہ دار بہن بھائی مائیں بیوی بچے ان کے لئے پڑھنا شروع کریں اور اگر ان کے ساتھ رابطہ ہوسکتا ہے تو ان کو بھی استغفار کی تلقین کریں اور ساتھ میں یہ وظیفہ بھی بتادیں انشاء اللہ اللہ کے فضل و کرم سے غیبی قدرت سے اور اللہ کی غیبی امداد شامل حال ہو گی اور خلاصی کے اسباب پیداہوجائیں گے ۔

یا اللہ یا واحِد یا اَحَدُ لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین یہ روزانہ 100 مرتبہ پڑھنا شروع کردیجئے دو مجالس میں بھی پڑھ سکتے ہیں اور ایک مجلس میں بھی پڑھ سکتے ہیں اول و آخر گیارہ گیارہ بار درود پاک کے ساتھ ۔یہ وظیفہ اگر خدانخواستہ آپ کے خاندان کے کسی فرد کو ناجائز طور پر قید کرلیا گیا ہے اٹھا لیا گیا ہے جیل میں دال دیا گیا ہے

شرط یہی ہے کہ ناجائز اٹھایا ہوا ہو وہ کسی جرم میں ملوث نہ ہو تو اس کی نجات کے لئے آزادی کے لئے قید سے باہر نکلنے کے لئے انتہائی قیمتی ،قیمتی اس لئے کہ اب تک جہاں جہاں آزمایا ہے الحمد للہ بیسیوں قیدی اس دعا اور آیت مبارکہ کی برکت سے رہا ہوچکے ہیں۔الحمد للہ جس جس کو بھی بتلایا ہے اللہ پاک نے ان کے قیدیوں کو رہائی دی۔نمازوں کی حفاظت کیجئے اور خصوصی اہتمام کے ساتھ نماز پڑھئے ۔

دوسرا عمل یہ ہے اگر کوئی شخص قید میں گرفتار ہو تو اُسے چاہیے زبان روکے بغیر بے حساب لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھے سارا سارا دن پڑھے ساری رات پڑھے جب نماز کا وقت ہو تو نماز ادا کرکے دوبارہ اِس کا ورد شروع کردے۔اِس کی برکت سے ان شآءَ اللہ ایسی صورت نکل آئے گی کہ قید سے رہائی نصیب ہوگی۔

راقم الحروف نے خود کئی ایسے مجرموں اور قاتلوں کو قید سے رہائی مِلتے ہوئے دیکھی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کہ بعد اِن بابرکت الفاظ کا ورد کیا۔ پیر طریقت مفتی محمد زبیر صاحب سے سنا کہ ایک مرتبہ قتل کے مقدمے میں سات مجرم پکڑکر قید کیے گئے۔ توبہ کرنے کے بعد جب انہوں نے اِس کلمہ کا ورد شروع کیا توعدالت سے ایک ایک کرکے اُس مقدمے سے سب بری ہوتے چلے گئے کچھ ہی عرصہ میں وہ سب قیدسے رہائی پا چکے تھے۔ ویسے بھی لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ جنت کا خزانہ اور سو بیماریوں کی دواء ہے ۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ (یعنی کوئی طاقت نہیں نیکی کرنے کی اور کوئی قوت نہیں برائی سے بچنے کی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی توفیق سے) یہ کلمہ ایک سو بیماریوں کی دواء ہے۔ اُن میں سب سے کم،فکر اور پریشانی کی بیماری ہے۔ ایک اور مقام پر حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّاباِللّٰہِ کثرت سے پڑھا کر بے شک یہ جنّت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

شیخ امام قطب ابوالحسن شاذلی فرماتے ہیں مجھے سفر وسیاحت کے دوران ایک مرد ِ خدا کی صحبت نصیب ہوئی اُس نے مجھے وصیّت کی کہ نیک اعمال میں اچھے افعال کلمہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّاباِللّٰہِ سے بڑھ کرکوئی قول زیادہ ممدّو معاون نہیں کیونکہ اِس کلمے کے ذریعے بندہ اپنے نفس سے بھاگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف جاتا ہے اور اُس کے فضل کو مضبوطی سے تھامتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے جس نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات کو مضبوطی سے تھام لیا تو اُسے صراطِ مستقیم پر چلنے کی ہدایت نصیب ہوگئی

Leave a Comment