نئے سال میں یہ کام ضرور کرنااس سال کا صدقہ

حضرت شاہ شمس تبریز نے فرما یا جس سال کے مہینے اور سال کا عدد پیار کا نکلا اور سال کا صدقہ ہر برج کے لیے تمام مصیبتوں کو ختم کرے گا اس 2021کا صدقہ تمام برج کیلئے ان تین چیزوں کامچھلی ، چاندی او راناج کا ہے ۔اگر دامن میں وسعت ہے تو بڑی مچھلی بھی لے سکتے ہیں ۔

حسب توفیق چاندی اگر دامن میں وسعت ہوتو ایک تولہ اگر وسعت نہیں تو اس سے بھی کم یا اپنی رقم کسی مستحق کو دینا پورے سال کی مصیبتوں کو ختم کرے گا ۔ اور اناج صدقے کی نیت کرکے کسی مستحق کو دے دیں اگر کم ہے تو پرندوں کو بھی دے سکتے ہیں ۔بے شک صدقہ تمام مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے ۔

2021کے پہلے مہینے کا اسم اعظم یا حلیمُ،یارزاق ستائیس مرتبہ ہے جو انسان اس کے پہلے مہینے کا اسم اعظم 27مرتبہ پڑھ کرکے اللہ کو یاد کرکے دن کا آغاز کرے گا وہ تمام مصیبتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں میں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی ہر دعا قبول فرمائے گا۔صدقے کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان سن لیں

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :أنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ : حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، أَوْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ، صَغِيْرٍ أَوْ کَبِيْرٍ، صَاعًا مِنْ تَمَرٍ، اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ.’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر کو ہر مسلمان غلام اور آزاد، مرد و عورت، بچے اور بوڑھے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو واجب ٹھہرایا۔‘‘مسلم، الصحيح، کتاب الزکوٰة، باب : زکوة الفطر علی المسلمين من التمر والشعيرِ، 2 : 678، رقم :

984زکوۃ کی ادائیگی کے لئے سال بھر نصاب کا باقی رہنا شرط ہے جبکہ صدقہ فطر میں نصاب پر سال کا گذرنا شرط نہیں بلکہ اگر کسی شخص کے پاس عیدالفطر کے دن نصاب زکوۃ کے برابر مال اس کی حاجاتِ اصلیہ سے زائد موجود ہو تو اس پر صدقہ فطر کی ادائیگی واجب ہے۔

3۔ اسی طرح زمین سے جو بھی پیداوار ہو گیہوں، جو، چنا، باجرا، دھان وغیرہ ہر قسم کے اناج، گنا، روئی ہر قسم کی ترکاریاں، پھول، پھل میوے سب پر عشر واجب ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس زمین کو آسمان یا چشموں نے سیراب کیا یا زمین عشری ہو یعنی نہر کے پانی سے اسے سیراب کیا جاتا ہو اس پر عشر (یعنی پیداوار کا دسواں حصہ) اور جس زمین کو سیراب کرنے کے لئے جانور پر پانی لاد کر لاتے ہیں۔

اس میں نصف عشر (یعنی پیداوار کا بیسواں حصہ) ہے۔جو شخص اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی ضرورت سے زائد مال غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور فقیروں پر خرچ کرے وہ نفلی صدقہ میں شمار ہو گا۔ پس جو جتنا زیادہ خرچ کرے گا آخرت میں اس کے درجات بھی اتنے ہی بلند ہوں گے۔

قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ’’جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے‘‘ البقرة، 2 : 261’

’حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر‘‘ بخاری، الصحيح، کتاب الزکوٰة، باب اتقو النار و لو لبشق تمرة والقليل من الصدقة، 2 : 514، رقم : 1351قرآن حکیم اور احادیث میں صدقات واجبہ کے علاوہ بھی بار بار صدقہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

Leave a Comment