جانوروں کو لعن وطعن کرنے کی سزا

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سفر میں تھے تو آپ نے لعنت (یعنی جانوروں کو گالی گلوچ دینا) کرنے کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یہ فلاں عورت ہے اس نے اپنی سواری کو لعنت کی ہے ۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ! تم اسے سواری سے نیچے اتاردو۔

کیونکہ اب وہ ملعونہ ہوچکی ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام نے اسے سواری نیچے اتار دیا۔ حضرت عمران نے کہا : گویا کہ میں اس کی سواری کی طرف دیکھ رہا ہوں وہ مٹیالے رنگ کی اونٹنی تھی۔ وہ وحی نبوت جو حضرت نوح اور ان کے بعد انبیاء علیہم السلام پر ہوئی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء کس طرح ہوئی اور اللہ بزرگ وبرتر کا ارشاد ہے انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین ۔ یعنی بے شک ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح پر نوح اور ان کے بعد کے نبیوں پر وحی بھیجی تھی۔

۔ ۱۔ حمید ی نے سفیان کی روایت سے اور سفیان نے یحی بن سعید انصاری کی روایت سے بیان کیا جس نے کہا کہ مجھ کو محمد بن ابراہیم تیمی نے بتایا جس نے علقمہ بن وقاص سے روایت کیا وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام اعمال (ارادی کا موں کا ) کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے موافق ہی بدلہ ہے۔

پس جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے نکاح کے لیے تو اس کی ہجرت اسی کے لے ہے جس کی طرف اس نے ہجرۃ کی ۔ ۲۔ عبد اللہ بن یوسف نے مالک بن ہشام بن عروۃ سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے بواسطہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کی حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کبھی تو میرے پاس گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے۔

اور جو کچھ کہ فرشتے نے کہا ہوتاہے میں اس کو اخذ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں متمثل ہو کر مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں یاد رکھتا ہوں جو کچھ وہ کہتا ہے ۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے یقینا سخت سردی والے دن آپ پر وحی اترتے دیکھی ہے۔

کہ باوجود اس شدت سردی کے آپ کے جبین مبارک سے پسینہ بہتاتھا۔مسلمانوں کو ایذا پہنچانے والوں کی مذمت کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتٰنًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا (پ۲۲،الاحزاب:۵۸) ترجمۂ کنزالایمان:اور جو ایمان والے مَردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا ۔

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: ’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔‘‘حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’آپس میں گالم گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ کہیں تووہ (یعنی اس کا وبال) ابتدا کرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے۔

…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’مسلمان کو گالی دینا خودکوہلاکت میں ڈالنے کی طرح ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد جلد دؤئم حدیث 2199ص221باب جہاد کا بیان)

تبصرہ: وہ عظیم ہستی جو جانوروں کو گالی دینا برداشت نہ کرسکی وہ ایک مسلمان کو برا بھلا کہنا کیسے برداشت کرے گی ۔ جن حضرات کی بے زبان جانوروں کو گالیاں دینے کی عادت بن چکی ہے ۔ وہ خود اپنی حالت کااندازہ لگالیں کہ وہ کس حالت میں ہیں۔

Leave a Comment