پاکستانی خواتین اپنے شریک حیات میں کون سی خوبیاں دیکھنا چاہتی ہیں؟

پاکستانی معاشرے میں جہاں اب روایات میں تیزی سے تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے وہیں پاکستانی خواتین ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور خاندانی فیصلہ سازی کے عمل میں بااختیار ہوتی جا رہی ہیں اس لیے ماضی کی بہ نسبت موجودہ حالات میں جیون ساتھی کے انتخاب میں لڑکی کی رائے کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور والدین اور خاندان کے بڑے اس بات کو سمجبھنے لگے ہیں

کہ جیون ساتھی کے انتخاب میں لڑکے کی طرح لڑکی کی رائے کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے-ایک کامیاب لڑکی اپنے جیون ساتھیمیں کیا خصوصیات دیکھنے کی خواہشمند ہوتی ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں –

لڑکا تعلیم یافتہ ہونا چاہیے موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے اور جس طرح لڑکیاں تعلیمی میدان میں بہت آگے نظر آتی ہیں اسی طرح ہر لڑکی بھی اس بات کی خواہشمند ہوتی ہے کہ اس کا جیون ساتھی تعلیمی میدان میں اس سے زیادہ پڑھا لکھا ہونا چاہیے-

معاشی طور پر کامیاب ہونا چاہیے ایک اچھی زندگی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے جیون ساتھی کا معاشی میدان میں کامیاب ہونا بہت ضروری ہے ۔ معاشی طور پرمضبوط انسان ہی ایک اچھی زندگی کا ضامن بن سکتا ہے-

خوش شکل اور اسمارٹ ہونا چاہیے ماضی سے قطع نظر جب یہ کہا جاتا تھا کہ مردوں کی شکل کون دیکھتا ہے حالیہ دنوں میں لڑکیوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا جیون ساتھی خوش شکل اور اسمارٹ ہونا چاہیے تاکہ وہ اس کا تعارف اپنے حلقہ احباب میں فخر سے کروا سکیں-

دین دار اور مضبوط روایت کا حامل ہونا چاہیے اچھی اور مضبوط روائتی اقدار کا حامل انسان عورت کی عزت کرنے والا ہوتا ہے جو آج کل کے دور کی عورت کی اولین ترجیح ہے اس لیے عورتیں اس بات کی خواہشمند ہوتی ہیں کہ ان کا جیون ساتھی نہ صرف ان کی عزت کرنے والا بلکہ اچھی اقدار کا حامل ہونا چاہیے-

اچھا سامع ہونا چاہیے ایک اچھے جیون ساتھی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کی بات اچھے طریقے سے سننے اور اس کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ ایک اچھا سامع شوہر ہی اپنی بیوی کے مسائل نہ صرف حل کر سکتا ہے

بلکہ ایک مضبوط تعلق قائم کر سکتا ہے- مختصر خاندان کا حامل ہونا چاہیے عام طور پر اگرچہ جوائنٹ فیملی اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہے مگر ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام قائم ہے اس لیے لڑکی اس بات کی خواہشمند ہوتی ہے کہ اس کا ہونے والا شریک حیات بہت ساری بہنوں کا بھائی نہ ہو یا پھر ایک بڑی جوائنٹ فیملی کا حصہ نہ ہو