قرآن پاک کی ایک ایسی آیت جو آپ کو ذہین بنا دے!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کند ذہنی دور کرنے اور ذہین بننے کیلئے نہایت آزمودہ عمل ہے جس سے فائدہ اٹھا کر آپ نہ صرف اپنے بچوں کی کندذہنی کو دور کر سکتے ہیں بلکہ خود بھی ذہین بن سکتے ہیں۔

سورۃ مزمل کی آیت نمبر 8’’واذکر اسم ربک و تبتل الیہ تبتیلا‘‘ روزانہ 313مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھیں انشا اللہ اس عمل کی برکت سے کند ذہنی دور ہو جائے گی اور آپ یاآپ کے بچے ذہین بنجائے

مولانا روم کے تین دروازے-ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘

شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب کے کنارے بیٹھ کر اپنی کتابوں کا معائنہ کر رہے تھے‘ شمس تبریز نے پوچھا ”یہ کیا ہے؟“ جواب دیا‘ یہ میری زندگی کا کل اثاثہ ہے‘ میں نے جو پڑھا‘ سیکھا اور جو محسوس کیا ان میں لکھ دیا“۔

شمس تبریز نے وہ ساری کتابیں تالاب میں پھینک دیں‘ شاہ شمس تبریز نے کتابیں تالاب میں پھینکنے کے بعد پوچھا ”آپ کے پاس اب کیا بچا؟“ مولانا رومنے غصے سے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا ”میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا‘ تم نے میری عمر بھر کی کمائی برباد کر دی“ شمس تبریز مسکرائے‘ تالاب میں ہاتھ ڈالا‘ ایک کتاب نکالی‘ جھاڑی اور مولانا کے ہاتھ میں دے دی‘

مولانا نے کتاب کھول کر دیکھی‘ وہ خشک اور اصل حالت میں تھی‘ وہ حیرت سے اجنبی کی طرف دیکھنے لگے‘ بغداد کا درویش اس کے بعد تالاب میں ہاتھ ڈالتا رہا‘ کتابیں نکالتا رہا اور جھاڑ کر مولانا روم کو پکڑاتا رہا‘ مولانا نے آخر میں نوجوان درویش سے پوچھا ”تم کون ہو اور تم نے یہ فن کہاں سے سیکھا؟“

نوجوان نے اپنی شہادت کی انگلی دل پر رکھی اور ہنس کر جواب دیا ”میں مسافر ہوں اور میں نے یہ فن دل سے سیکھا“۔ تالاب کی جگہ اب وضو خانہ بن چکا ہے‘ زائرین آتے ہیں‘ وضو کرتے ہیں اور مولانا روم کی بارگاہ میں حاضری کے لیے اندر داخل ہو جاتے ہیں‘ ہم تیسرے دروازے باب گستاخاں کے ذریعے اندر داخل ہوئے‘ باب گستاخاں ان طالب علموں کے لیے تھا جو مولانا روم کے شاگرد بنتے تھے‘ سلوک سیکھنے کی کوشش کرتے تھے‘ ناکام ہو جاتے تو چپ چاپ باب گستاخاں سے باہر نکل جاتے تھے‘یہ ناکامی اور بھگوڑوں کا دروازہ تھا‘ یہ مولانا کے دور میں اندر سے باہر کی طرف کھلتا تھا۔

کوئی شخص باہر سے اس کے ذریعے اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا‘ باب خاموشاں اس سے چند گز کے فاصلے پر تھا‘ مولانا کا جو بھی شاگرد انتقال کر جاتا تھا‘اس کی میت چپ چاپ اس دروازے سے باہر نکال دی جاتی تھی‘ باب خاموشاں بند تھا‘ ہم نے اس کو ہاتھ لگایا اور باب چلبیان کی طرف چل پڑے‘ یہ کام یابی کا دروازہ تھا‘ مولانا روم کے شاگرد درویش بننے کے بعد کام یاب ہو کر اس دروازے سے باہر نکلتے تھے اور ہم سب اس دروازے سے باہر آ گئے۔