سعودی عرب کی جانب سے اگلے ہفتے کفیل سسٹم ختم کرنے کا اعلان کیا جائے گا

نئے نظام میں پاسپورٹ پر خروج کی مہر لگوانے کے لیے کفیل کی اجازت درکار نہیں ہو گی اور نئی نوکری بھی کفیل کی مرضی کے بغیر کی جا سکے گی

ریاض(28 اکتوبر2020ء) سعودی عرب میں کفیلوں کے ہاتھوں پریشان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے شاندار خبر سُنا دی گئی ہے ۔

سعودی حکومت اگلے ہفتے کفالت سسٹم کے خاتمے کا اعلان کرنے جا رہی ہے ۔ تاہم اس نظام کا خاتمہ اگلے سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ہو گا۔ اس اقدام سے 10 لاکھ تارکین وطن کو فائدہ ہونے جا رہا ہے۔

سعودی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی بہبود کی جانب سے اگلے ہفتے کفالت نظام کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

سعودی گزٹ کے مطابق پُرانے والا کفالت نظام سرے سے ختم کر دیا جائے گا اس کی جگہ سعودی آجروں اور تارکین کے مابین نئی قسم کا ملازمتی معاہدہ طے پایا کرے گا۔

سعودی عرب میں گزشتہ 7 دہائیوں سے کفالہ کا نظام نافذ ہے، جس کے ختم ہونے کے بعد ملازمین اور مالکان کے درمیان نیا ورک کنٹریکٹ سسٹم لایا جائے گا۔

کفالت کے نظام سے غیر ملکی ملازمین کی اکثریت خاصی تنگ تھی اور ان کی جانب سے اس کے خاتمے کا کئی بار مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

نئے نظام کے بعد تارکین کی معیار زندگی خصوصاً رہائشی اور دیگر سہولیات کے حوالے سے بہترہو گا۔ کفالت کے نظام کی تبدیلی کا یہ اقدام سعودی عرب میں اصلاحات متعارف کرانے کے ویژن 2030 ء پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے۔

کفالت سسٹم ختم ہونے کے بعد تارکین ملازمین کو وطن واپسی اور ری انٹری ویزوں کے معاملے میں بڑی آزادی حاصل ہو جائے گی۔ کارکنان کو پاسپورٹ پر خروج کی سٹمپ لگوانے کے لیے کفیل کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی اور وہ اپنے کفیل کی مرضی کے بغیر بھی نئی ملازمت حاصل کر سکے گا۔

اس کے علاوہ کارکنان اپنی نقل و حرکت میں بھی آزاد ہوں گے۔ کفیل انہیں کسی اور شہر آنے جانے یا تفریحی سرگرمیوں سے نہیں روک پائیں گے۔نئے نظام میں کارکنان کسی آجرکو چھوڑ کر دوسرے مالک کے پاس بھی ملازم کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ مملکت میں کفالہ سسٹم رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی ختم ہوجانا تھا، تاہم کورونا وبا کی وجہ سے اس پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

کفالہ نظام کے خاتمے پر پریمیم اقامہ متعارف کرایا جائے گا۔