ہرمشکل کیلئے , ہر کام کے لئے خاص عمل

ہرمشکل کیلئے , ہر کام کے لئے خاص عمل

اسلام و علیکم دینی اور دنیاوی معاملات کاروبار ۔ فراحی رزق۔ فتوحات دشمناں و حاسداں اور شادی میں رکاوت دیگر مختلف امور زندگی سے تعلق رکھنے والے شعبہ جات میں سو فیصد فتح حاصل کرنے کیلئے تین روزے رکھے ان تین دنوں میں مکمل پرھیز جلالی جمالی کیا جائے سحری و افطاری کھیر سے کی جائے اتنی کھیر پکائی جائے جو بعد میں ضائع نہ ھو ۔ جس دن نیا چاند نکلے اس پھلی تاریخ سے لیکر تیس تک اس عمل کی مدت ھے اور یہ تین روزہ عمل ایک ماہ کام دیتا ھے اگر مسلسل کام لینا ھو تو اسی عمل کو چاند چڑھنے پر جو پہلی تاریخیں آتی ہیں اس کے مطابق عمل کیا جائے بعد نماز عشاء یا تہجد تازہ وضو یا غسل کرکے ایک سفید رنگ کی چادر اوڑھ لے اور اِیَّاکَ نَعبُدو اِیَّاکَ نَستَعِین کو سات مرتبہ پڑھ کر اگر بتی پر دم کرے اور اسے جلائےاور پھر پڑھے وَافتَح عَلَینا خَزَائنَ رَحمَتِکَ بِحَقِ یا ایُّھا المُزَّمِلُ ذُقنِی بِلُطفِکَ اَلخَفِیِ الاِلطَافِ اور اس کے بعد سوره مزمل شریف پڑھنا شروع کرے جب سورۃ پڑھتے ھوئے لفظ وکیلا پر پہنچے تو کھڑے ھو کر اکیس مرتبہ حَسبِی اللہُ و نِعمَ الوکیل نِعمَ المولی و نِعمَ النَصیر ۔ اور نو مرتبہ ۔ یارب ۔ پڑھے اور جب سورۃ پڑھتے ھوئے ما تَیَسَّرَ مِن القُرآن پر پہنچے تو اپنے مطلب کو یہاں بیان کرے اور آخر تک سورۃ پڑھ لے اور انیس بار یا رحیمُ کُلُ صرِیخِِ و مَکرُوبِِ و عَیَاثِہ ِ و مَعَاذِہِ یا رَحِیمُ پڑھے ۔ اسی طرح کل۔گیارہ بار اس عمل کی تکرار کرے اسی ایک عمل سے دولت عزت شہرت اور دیگر جتنی بھی حاجات ھوں گی وقت سے پہلے انجام پائیں گی اور فتوحات بے مثل اور بے شمار فائدے حاصل ھوں گی اس عمل کا عامل جو کام سوچتا ھے وہ ھو جاتا ھے ا ۔دعاؤں میں یاد رکھے اللہ آپ سبکو کامیاب کرے آمین

ایک بیس بائیس سالہ نوجوان ناہید سپر مارکیٹ میں داخل ھوا، کچھ خریداری کر ہی رہا تھا کہ اسے محسوس ھوا کہ کوئی خاتون اسکا تعاقب کر رہی ھے، مگر اس نے اسے اپنا شک سمجھتے ھوئے نظر انداز کیا اور خریداری میں مصروف ھو گیا، لیکن وہ عورت مستقل اسکا پیچھا کر رہی تھی، اب کی بار اس نوجوان سے رہا نہ گیا، وہ یک لخت خاتون کی طرف مڑا اور پوچھا، ماں جی خیریت ہے؟عورت: بیٹا آپکی شکل میرے مرحوم بیٹے سے بہت زیادہ ملتی جلتی ھے، میں نہ چاھتے ھوئے بھی آپکو اپنا بیٹا سمجھتے ھوئے آپکے ھوئے آپکے پیچھے چل پڑی اور ابھی آپ نے مجھے امی جان کہا تو

میرے دل کے جذبات فرطِ محبت و خوشی سے لائق بیان نہیں‘عورت نے یہ کہا اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ھو گئے‘نوجوان: کوئی بات نہیں ماں جی آپ مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیں‘عورت: بیٹا کیا ایک دفعہ پھر آپ مجھے ماں جی کہو گے؟ نوجوان نے اونچی آواز سے کہا جی ماں جی لیکن خاتون نے گویا نہ سنا ہو ‘نوجوان نے پھر بلند آواز سے کہا جی ماں جی۔۔عورت نے سنا اور نوجوان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے چومے، اپنی آنکھوں سے لگائے اور روتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئی‘

نوجوان اس منظر کو دیکھ کر اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور بے اختیار اسکی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ اپنی خریداری پوری کیے بغیر واپس چل دیا‘کاو¿نٹر پر پہنچا تو کیشیئر نے دس ہزار کا بل تھما دیا‘نوجوان نے پوچھا دس ہزار کیسے؟ کیشیئر : آٹھ سو کا بل آپکا ہے اور نوہزار دو سو آپکی والدہ کا، جنہیں آپ ابھی امی جان امی جان کہہ رہے تھے‘وہ دن اور آج کا دن ہے نوجوان اپنی حقیقی امی کو بھی خالہ جان کہتاہے

 


Leave a Reply

Your email address will not be published.