بادشاہ کااعلان ہوا

بادشاہ کااعلان ہوا

بادشاہ کا اعلان ہوا جس نے آج کے بعد قران کو الله کا کلام کہا یا لکھا گردن اڑا دی جائے گی بڑے بڑے محدثین علماء شہید کر دیئے گئے ساٹھ سال کے بوڑھے امام احمد بن حنبل امت کی رہنمائی کو بڑھے جاؤ جا کر بتاؤ حاکم کو احمد کہتا ہے

قرآن الله کی مخلوق نہیں الله کا کلام ہے دربار میں پیشی ہوئی بہت ڈرایا گیا امام کا استقلال نہ ٹوٹا مامون مر گیا اسکا بھائی مھتسم حاکم بنا امام کو ساٹھ کوڑوں کی سزا سنا دی گئی دن مقرر ہوا امام کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا جا رہا تھا بغداد میں سر ہی سر تھے ایک شخص شور مچاتا صفیں چیرتا پاس آتا ہے

احمد احمد مجھے جانتے ہو . فرمایا نہیں اا میں ابو الحیثم ہوں بغداد کا سب سے بڑا چور احمد میں نے آج تک انکے بارہ سو کوڑے کھاے ہیں لیکن یہ مجھ سے چوریاں نہیں چھڑا سکے کہیں تم ان کے کوڑوں کے ڈر سے حق مت چھوڑ دینا امام میں نے اگر چوریاں چھوڑیں تو صرف میرے بچے بھوک سے تڑپیں گے لیکن اگر تم نے حق چھپایا تو امت برباد ہو جائے گی ..

امام غش کھا کہ گر پڑے ہوش آیا تو دربار میں تھے حبشی کوڑے برسا رہا تھا تیس کوڑے ہوئے مھتسم نے کہا امام کہیے ..؟ آپ نے فرمایا میں مر سکتا ہوں لیکن محمد کے دین میں رتی برابر تبدیلی برداشت نہیں کر سکتا پھر سے کوڑے برسنے لگے جسم سے گوشت الگ داڑھی اڑ چکی بوٹیاں اڑ اڑ کہ دیواروں پہ چپکتی جا رہیں ایک وزیر کوترس آتا ہے

امام ایک مرتبہ میرے کان میں چپکے سے کہہ دیجئے قرآن کلام نہیں مخلوق ہے میں بادشاہ سے سفارش کرونگا امام نے فرمایا .. تو میرے کان میں کہہ دے قرآن مخلوق نہیں الله کا کلام ہے قیامت میں رب سے میں تیری سفارش کرونگا۲۸ ماہ کے قریب قید و بند اور کوڑوں کی سختیاں جھیلیں۔

آخر تنگ آکر حکومت نے آپ کو رہا کردیا۔ ان سختیوں کی وجہ سے امام احمد بہت کمزور ہوگئے تھے، ایک عرصہ تک چلنا پھرنا بھی مشکل رہا۔ جب آپ تندرست ہوئے

 


Leave a Reply

Your email address will not be published.