رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا

آج آپ کو ننانوے پریشانیوں سے خلاصی ، حصول جنت اور دوا م نعمت کا ایک مختصر عمل بتانے جارہے ہیں۔ آپ اس عمل کوغور سے پڑھیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ” کو کثرت سے پڑھتارہے گا۔ اس کو ننانوے پریشانیوں سے نجات ملے گی۔ جن میں ادنیٰ پریشانی آنے والا غم ہے۔

دوسرا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کثرت سے “لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ” پڑھا کرو اس لیے کہ یہ جنت کا خزانہ ہے۔ حضرت مکحول ؒ فرماتے ہیں کہ جو یوں پڑھے گا ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ ولا ملجا من اللہ الا الیہ ” تو اللہ تعالیٰ اس سے غم کے ستر دروازے بند کردے گا۔ جن میں ادنیٰ فقر کادروازہ ہے۔ تو اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ اگر کوئی شخص فقروفاقہ کا شکار ہے تو مذکورہ کلمہ اسی طرح پڑھے جس طرح حدیث نمبر دو میں درج ہے۔

تیسرا: حضرت معاذرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے فرمایا: کہ اے معاذ ! کیا آ پ کو جنت کا دروازہ نہ بتادوں ؟ میں نے کہاضرور ارشاد فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا: ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ” جنت کا دروزاہ ہے۔ چوتھا: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نعمت اس کے پاس باقی رہے تو وہ کثرت سے ” لا حول ولا قوۃالا باللہ العلی العظیم ” پڑھتا رہے۔

یہ ننانوے پریشانیوں سے خلاصی اور حصول جنت اور دوام نعمت کی یہ مختصر اعمال آپ کوبتائے ہیں۔ امید ہے کہ آپ اس عمل سے ضرور باضرو ر فائدہ اٹھائیں گے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی صبح اور شام مسجد (نماز کے لئے) جایا کرے وہ جب صبح اور شام کو جائے گا اللہ تعالیٰ بہشت میں اس کی مہمانی کا سامان کردے گا۔حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب ایمان دار لوگ (قیامت کے دن) دوزخ پر سے گزر جائیں گے تو بہشت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر اٹکائے جائیں گے، اور دنیا میں جو انہوں ایک دوسرے پر ظلم کیا تھا اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

جب پاک صاف ہو جائیں گے تو ان کو بہشت کے اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ ہر شخص کو بہشت میں اپنا مکان دنیا کے مکان سے بڑھ کر معلوم ہو گا۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا۔ جنت کا چوکیدار پوچھے گا تم کون ہو؟ میں کہوں گا محمد ﷺ وہ کہے گا آپ ہی کے لئے مجھے حکم ہوا تھا کہ آپ ﷺسے پہلے کسی کے لئے بھی دروازہ نہ کھولنا۔

Leave a Comment