اسمِ اعظم یا الر حمٰنُ پڑھنے کے فوائد۔یا الرحمٰنُ کا خاص وظیفہ۔ یا الر حمٰنُ کے حیران کن معجزات

میرے رب کے سارے نام مبارک ہیں اور سارے نام محترم مکرم معزز ہیں۔ کچھ نام ایسے ہو تے ہیں جو اللہ نے کچھ خاص انتخاب کر کے ا للہ نے بندوں کے لیے رکھے ہیں کچھ نام ایسے ہیں ان ناموں میں لفظ “رحمٰن” جو کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا حصہ ہے۔ محدثین نے بڑی عجیب بات کی ہے کہ اللہ پاک نے بسم اللہ الرحمٰن کو پہلے لکھا ہے رحیم کو بعد میں لکھا ہے۔

یعنی رحمٰن کے اصل میں رحمٰن کی جو تاسیر ہے اس میں ماننے والے نہ ماننے والے بھی ہیں۔ اس میں گ ن ا ہ گار کو بھی ملتا ہے بد کار کو بھی ملتا ہے حتیٰ کہ سب کو میرا رب دیتا ہے اور جو صفتِ رحیم ہے اس کا بھی مطلب ہے کہ رحم کر نے والا ۔ میرے رب کی جو ذات ہے وہ بہت ہی اچھی ذات ہے اگر ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں تو اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فر ما یا کہ تمہاری جو نماز ہے وہ میرے کسی کام نہیں ہے اگر تم نمازیں پڑھتے ہو تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے اگر تم نماز نہیں پڑھتے ہو تو اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ جو صفتِ رحیم ہے اس میں ق ی ا م ت کے دن اللہ پاک سب کو جدا کر دے گا ۔ کہ آج کے دن مج رم الگ ہو جا ئیں اور جن کو بشارت ملے گی وہ الگ ہو جا ئیں صفتِ رحمٰن میں اللہ نے سب کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کوئی اپنا ہے کوئی غیر ہے کوئی فاسق ہے کوئی فاجر ہے کوئی متقی ہے کوئی ولی ہے کوئی بھی شخص ہے میرا اللہ کہتا ہے کہ میں سب کو یہ صفتِ رحمٰن ہے۔ اب صفتِ رحمٰن کی بڑی تاثیر ہے۔ جو بندہ ہر نماز کے بعد صرف ایک دفعہ یا الر حمٰن ہر نماز کے بعد ایک دفعہ یا الرحمٰن ہر نماز کے بعد ایک بار یا رحمنُ ایک تسبیح اس کے کما لات کیا ہیں

ہر نماز کے بعد ایک تسبیح یا رحمٰن ہر نماز کے بعد ایک تسبیح یا رحمٰن اب ایک چیز بتاؤں میں آپ کو۔ یا رحمٰن ایک تسبیح ہر نماز کے بعد پڑھنے کے بہت ہی فوائد ہیں۔ یا رحمٰنُ تو ایک چیز ذہن نشین کر لیں ایک چیز ذہن نشین کہ یہ بات پکی ہے کہ ایک تسبیح کے سو دانے ہیں اور سومسئلوں کی نیت بھی کر لیں سو مشکلوں کا حل کی بھی نیت کر لیں

سو الجھنوں کی بھی نیت کر لیں تو انشاء اللہ اس اللہ کی صفت یا رحمٰنُ پڑھنے کے سو دفعہ پڑھنے کے آپ کو ایسے کما لات ملیں گے کہ آپ حیران رہ جا ئیں گے آپ کی جو مشکلات ہوں گی وہ حل ہو جا ئیں گی ۔ آپ کی جو الجھنیں ہیں وہ دور ہو جا ئیں گی۔ اللہ ہمیں اس پر کامل یقین کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔

Leave a Comment