تبلیغ والے چلہ میں نکلنے پر بہت زوردیتے ہیں

اکثر آپ نے سنا ہوگا کہ تبلیغ والے جو ہیں وہ آپ صیحح کہتے ہیں کہ آیا اللہ کی راہ میں چلے کےلیے نکلے ۔ تو چلے کی آخر اصلیت کیا ہے؟ بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔ اور تبلیغ والے چلے کے نکلنے پر بہت زور بھی دیتے ہیں۔ تو کیا واقعی چلے کی کوئی اصلیت ہے ؟

جس کی بنا ء پر یہ لوگ چلہ نکالنے کو کہتے ہیں۔ آج آپ کو بتاتے ہیں۔ کہ چلہ لگانے کی اصل حقیقت یا وجہ کیا ہے چلہ یعنی چالیس دن لگاتار عمل کی بہت برکت اور تاثیر بتائی جاتی ہے چالیس دن عمل کرنے سے روح اور باطن پر اچھا اثر مرتب ہوتا ہے حضرت موسیؑ نے کوہ طور پر چالیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ اس کے بعدآپ کو تورات ملی ۔

صوفیہ کرام کےہاں بھی چلہ کا اہتمام بہت زیادہ ہے لہٰذا یہ بالکل بے اثر نہیں ہے ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص نے صرف اللہ کی رضا کےلیے چالیس دن تک تکبیر اولی کےساتھ نما زپڑھی تو اس کے لیے دو پروانے لکھے جاتے ہیں۔ ایک پروانہ جہن م سے نجات کااو ردوسرا نفاق سے بری ہوناکا۔

اس سےمعلوم ہو اکہ چلہ کو حالات کو بدلنے میں خاص اثر ہے دیکھیے کہ جب نطفہ رحم مادر میں قرار پکڑتا ہے تو پہلے چلے میں وہ نطفہ یعنی بندھا ہوا خ ون ہوتا ہے اور دوسرے چلے میں گ وشت کی بوٹی ہوتا ہے ۔تیسرے چلے میں مضغی کے بعض اعضا ء کو ہڈیاں بنا دیتا ہے اور ان ہڈیوں پر گ وشت چڑھتا ہے ۔ اورپھر اس کے بعد یعنی تین چلوں کےبعد جس کے چار ماہ ہوتے ہیں۔ اس میں جان پڑتی ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص ایک عورت پر عاشق ہوگیا اور اس کی محبت میں دیوانہ ہوگیا وہ عورت بڑی پاکدامن اور سمجھدار تھی ۔ اس نے اس شخص کو کہلاوایا کہ چالیس دن تک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کےپیچھے تکبیر اولی کے ساتھ نما ز پڑھو۔ اس نے چالیس دن تک ایسے ہی نماز پڑھی اور اس کی کایا ہی پلٹ گئی اور اس کا عشق مجازی عشق حقیقی میں بدل گیا۔

اب تک وہ اس عورت کا عاشق تھا اب وہ اللہ کا عاشق ہوگیا۔ اور اس عشق بھی ایسا کہ اللہ کی محبت اس کے رگوں میں سرایت کرگئی ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس واقع کی اطلا ع ہوئی بے شک اللہ تعالیٰ اور ا سکے رسول نے سچ کہا کہ نماز بےحیائی اوربرائی کی باتوں سے روکتی ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ : جوشخص چالیس دن تک اخلاص کےساتھ اللہ کی عبادت کرے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے قلب سے حکمت کے چشمے جاری فرمادیتے ہیں۔ یہ ہے وہ چلہ کی حکمت کہ جس کی وجہ سے تبلیغ والے کو اللہ کی راہ میں چلہ لگانے کو کہتے ہیں۔

امید ہے کہ یہ جو چلے کےپیچھے جو بات پوشیدہ تھی اس کو آپ کے سامنے رکھی۔ اس کو آپ نے ضرور پسند کیا ہوگا۔ توا س کو دوسروں تک پہنچائیں ۔تاکہ دوسروں کو بھی اس سے فائدہ ہوسکے۔

Leave a Comment