حضوراکرمﷺ کی زیارت کا طریقہ

آج آپ لوگوں کو حضور اکرمﷺ کا زیارت کا طریقہ بتائیں گے ۔ آپ کو زبردست طریقہ بتائیں گے ۔یقین جانیں یہ عمل سن کر آپ بہت خوش ہوجائیں گے ۔ بزرگوں نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کو نبی کریمﷺ کی زیارت کا شوق ہو وہ جمعہ کی را ت میں دو رکعات نفل اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورت الفاتحہ کے بعد گیارہ مرتبہ آیت الکرسی اور گیارہ مرتبہ سورت اخلاص پڑھے۔

اورپھر سلام پھیرنے کے بعد سو مرتبہ یہ درود شریف پڑھے۔ وہ درود شریف کیا ہے “اللھم صل علی محمد النبی الامی وعلی الہ واصحابہ وبارک وسلم” ۔اگر کوئی شخص چند مرتبہ ہی یہ عمل کرے ۔ چند جمعہ عمل کرے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو حضو ر اقدس ﷺ کی زیارت نصیب فرمادیتے ہیں۔ بشرطیکہ شوق اور طلب کام ہو۔ اورگناہوں سے بھی بچتارہے ۔ انشاءاللہ!یقینی زیارت نصیب ہوگی۔ درود شریف کی کثرت، سُنّت کی کامل اتباع اور غلبۂ محبت سے یہ نصیب ہوجاتی ہے؛

اس لیے آپ ﷺ کی سنتوں کے اتباع کے ساتھ کثرت سے درود شریف پڑھتے رہیے، ان شاء اللہ یہ آپ کی اس نیک تمنا کے پورا ہونے میں مفید و معاون ثابت ہو گا۔ لیکن یہ کوئی لازمی امر نہیں؛ اس لیے اگر کسی کو نصیب نہ ہو تو مغموم نہیں ہونا چاہیے۔

ہمارے اکابر علماء میں بعض کا ذوق یہ رہا ہے کہ وہ تواضع وانکساری کی وجہ سے خود کو زیارت کا مستحق نہیں سمجھتے تھے، اس لیے جب مرقدِ اطہر پر حاضر ہوتے تو دورسے ڈرتے ڈرتے سلام پیش کرتے تھے۔ جب کہ ہمارے بعض اکابر علماء نے خواب میں زیارتِ رسول اللہ ﷺ کے لیے درود شریف کے بعض صیغے بھی بتائے ہیں، اس لیے ایک صحیح مسلمان ہونے کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی چاہت ہر مسلمان کی ہونی چاہیے،

لیکن اپنے گن اہوں اور خط اؤں کو سامنے رکھ کر ادب بھی ملحوظ ہونا چاہیے۔حضرت شیخ الحدیث فضائل درود شریف میں تحریر فرماتے ہیں:حضورِ اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت کی تمنا کون سا مسلمان ایسا ہوگا جس کو نہ ہو! لیکن عشق و محبت کی بہ قدر اِس کی تمنائیں بڑھتی رہتی ہیں، اور اکابر و مشائخ نے بہت سے اعمال اور بہت سے درودوں کے مُتعلِّق اپنے تجرَبات تحریر کیے ہیں، کہ اِن پر عمل سے سید الکونین ﷺ کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔

علامہ سخاویؒ نے ’’قولِ بدیع‘‘ میں خود حضور ﷺ کا بھی ایک ارشاد نقل کیاہے:” مَنْ صَلّٰى عَلىٰ رُوْحِ مُحَمَّدٍ فِي الْأَرْوَاحِ، وَعَلىٰ جَسَدِہٖ فِي الْأَجْسَادِ، وَعَلىٰ قَبْرِہٖ فِي الْقُبُوْرِ”، جو شخص روحِ محمد (ﷺ) پر اَرواح میں، اور آپ ﷺ کے جسدِ اَطہر پر بدنوں میں اور آپ ﷺ کی قب ر مبارک پر قبور میں درود بھیجے گا وہ مجھے خواب میں دیکھے گا، اور جو مجھے خواب میں دیکھے گا وہ قِیامت میں دیکھے گا، اور جو مجھے قِیامت میں دیکھے گا مَیں اُس کی سفارش کروں گا، اور جس کی مَیں سفارش کروں گا وہ میری حوض سے پانی پیے گا، اور اللہ پاک اُس کے بدن کو جہ نَّم پر حرام فرمادیں گے۔

علامہ سخاویؒ کہتے ہیں کہ: ابوالقاسم بستیؒ نے اپنی کتاب میں یہ حدیث نقل کی ہے؛ مگر مجھے اب تک اِس کی اصل نہیں ملی۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں: جوشخص یہ ارادہ کرے کہ نبیٔ کریم ﷺ کو خواب میں دیکھے، وہ یہ درود پڑھے: “اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ كَمَا أَمَرْتَنَا أَنْ نُّصَلِّيَ عَلَیْهِ،اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ كَمَا هُوَ أَهْلُهٗ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضىٰ”