عدالت میں مقدمہ جیتنے کا وظیفہ

اللہ کی ذات ہی فتاح ہے۔یہ وہ ذات ہے جس کی نظر عنایت سے ہر مصیبت،بلااور آفت دور ہو جاتی ہے۔اس کی مہربانی سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور سختی ختم ہو جاتی ہے۔ تنگی راحت میں بدل جاتی ہے اور اس کی مدد سے دشمن پر فتح حاصل کرنے کے دروازے کھل جاتے ہیں۔غرض ایسی ذات جو ہر قسم کی تکلیف کو دور فرما کر راحت اور رحمت کے باب کھولے اسے فتاح کہتے ہیں۔یہ عمل قید سے خلاصی کے لیے بے حد مفید ہے۔

اگر کوئی شخص دشمن کی قید یا مقدمہ ناحق میں پھنس گیا ہو۔ تو اس کے لیے اس کے گھر کے افراد مل کر اس اسم پاک کو21000مرتبہ روزانہ پڑھیں7دن اس عمل کو متواتر کرنے سے قیدی رہائی پائے گا اگر گھر میں افراد کم ہوں تو ہمسائے سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ جائیداد کے مقدمہ میں کامیابی:اس وظیفہ میں جائیداد کے مقدمے میں کامیابی کے اثرات ہیں

لہٰذا جائیداد کی تقسیم میں اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہو یا کوئی دوسرا فریق حصہ دینے پر راضی نہ ہو یا عدالت میں تقسیم جائیداد کا مقدمہ چل رہا ہو تو اس صورت میں 21 روز تک یَارَوفُ گیارہ ہزار مرتبہ روزانہ پڑھے پھر ہر تاریخ پر اسے مقدمہ کی پیشی کے وقت دل میں کثرت سے پڑھتا رہے انشاءاللہ مقدمہ میں کامیابی حاصل ہوگی اور جائیداد کا حصہ مل جائے گا۔ اگر کامیابی نہ ہو تو پھر سوا لاکھ پورا کریں۔انشاءاللہ کامیابی ملے گی۔

میں چونکہ دو سال سے اشتہاری تھا مگر اس وظیفے کی برکت سے ایک دن جیل یا تھانے میں گرفتار ہوئے بغیر ہی میری ضمانت ہوگئی اللہ پاک نے مجھ پر خاص رحمت فرمائی اور میں مشکلات سے بچ گیا۔

اس کے بعد عدالتی کارروائی شروع ہوئی‘ میں پاگلوں کی طرح پڑھتا رہا‘ قدرت کا کمال‘ کرشمات‘ دشمن سامنے ہوتے اور بااختیار بھی تھے لیکن مجھے کوئی نقصان چاہتے ہوئے بھی نہ پہنچا سکے۔ مدعی پارٹی نے لاکھوں خرچ کرکے میرے خلاف تفتیش کروائی اور اپنی مرضی کی دفعات لگوائیں۔ مگر میری ضمانت ضبط نہ ہوئی۔ اسی دوران میری شیخ الوظائف سے دوبارہ ملاقات ہوئی‘ میں نے ساری صورتحال بتائی تو آپ نے فرمایا: ایک اسم اعظم ہے اور تمہارے پاس اسم اعظم ہے اور کہتے ہو کہ میرے دشمن بہت زیادہ ہیں‘ جاؤ پاگلوں کی طرح اس کو پڑھو۔

مجھے ہر کوئی بتارہا تھا کہ جیسی تم پردفعات ہیں اور جو کیس کی صورتحال ہے تم کو ضرور بالضرور عمر قید ہی ہوگی۔ سب سے پہلا کرشمہ یہ ہوا کہ ضمانت منسوخی کی درخواست تھی اور قانون بھی یہی تھا لیکن میں نے جج صاحب کی قلم کو اپنی آنکھوں سے کانپتے ہوئے دیکھا‘ جج صاحب نے انتظار میں کیس رکھ دیا اور کہا تھوڑی دیر میں فیصلہ دیتا ہوں‘ ہم سب باہر بیٹھ گئے اور مدعی پارٹی نے نعرے لگانا شروع کردئیے ابھی آرڈر نہیں ہوئے تھے اور وہ پہلے سے پولیس کو تیار کررہے تھے کہ ابھی جج صاحب آرڈر دیں گے اور آپ اس کو پکڑ کر اس کو مزہ چکھائیے گا۔

مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا مجھے خود معلوم نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ اچانک جو گاڑی مجھے پکڑنے کیلئے آئی تھی وہی پولیس بھاگتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور کو کہا گاڑی بھگاؤ عدالت سے جلدی نکل جاؤ۔ بعد میں پتہ چلا کہ میری ضمانت منسوخی کی درخواست جج صاحب نے خارج کردی

اورمدعی نے ایک اور درخواست بھی میرے خلاف دی وہ بھی خارج ہوگئی‘ چالان میں ایک رپورٹ گم ہوگئی تھی جج صاحب نے آرڈر دیا کہ پولیس والے باہر آئے ہوئے ان کو بلائیں ان سے پوچھتے ہیں کہ رپورٹ کہاں ہے؟ اس لیے وہ ڈر کر بھاگ گئے ‘ کورٹ کے سارے سینئر اور سرکاری وکیل پریشان یہ کیسا منظر ہے؟ ہر رپورٹ مجرم کے خلاف‘ جج صاحب نے کیا سوچ کر یہ فیصلہ دیا۔

پھر چند سماعتوں کے بعد فیصلے کادن آگیا۔ اب جو بڑے بڑے وکلاء تھے وہ کہہ رہے تھے تم کیا سوچ کر عدالت میں کھڑے ہو؟ تم کہیں بھاگ جاؤ‘ کسی دوسرے ملک فرار ہوجاؤ‘ تمہیں عمر قید ہی ہوگی‘ مگر میں مطمئن ہوکر پڑھتا رہا‘ ہر طرف یہی شور تھا کہ اس بندے کو آج عمر قید ہوجائے گی۔ میرا وکیل بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا جب جج صاحب کے سامنے پیش ہوئے تو بار بار میری طرف ہلکی ہلکی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے‘ پھر کہا آج فیصلہ نہیں ہوگا‘

جمعہ کے دن فیصلہ سنایا جائے گا۔ خیر جمعہ کا دن بھی آگیا‘ ہم سات قیدی تھی جن میں اصل مجرم میں ہی تھا‘ عدالت میں جانے سے پہلی میں نے سنت طریقے سے مسواک کی‘ سر پر ٹوپی پہنی پھر پڑھتا ہوا عدالت کے کمرے میں پہنچ گیا‘ جج صاحب نے کہا ’’ج‘‘ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ہوں سرکار‘ کہنے لگے اپنے وکیل کو لاؤ‘ بڑی مشکل سے فون کر کے وکیل کو بلایا۔

وہ بھی آگیا‘ اب جج صاحب نے مدعی کے وکیل کو کہا کہ تمہاری پوری کارروائی میں صرف پولیس شامل ہے‘ اس کیس میں کچھ مراحل ایسے ہیں جہاں پر کارروائی علاقہ مجسٹریٹ کرتا ہے مگر یہاں بھی صرف پولیس نے کارروائی کی ہے‘ لہٰذا پولیس نے یکطرفہ فیصلہ کیا اور ساری ابجیکشن لگادئیے‘ جج صاحب نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ تم سب آزاد ہو‘ اپنے گھرجاؤ۔ جب جج صاحب نے فیصلہ سنایا تو وہاں کھڑے بڑے بڑے وکیل تو جیسے پاگل ہوگئے ہوں‘ مدعی کا وکیل بار بار سب سے پاگلوں کی طرح یہ پوچھ رہا تھا لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے یہ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟

میری بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا‘ جب ہم باہر جانے لگے تو جج صاحب نے کہا: تم لوگ رُک جاؤ میرے وکیل اورہم سب کھڑے ہوگئے تو جج صاحب فرمانے لگے: میری بھی تو کچھ سن لو‘ ہم حیران ہوگئے یہ تو وہ جج صاحب ہیں جو عدالت میں ہنسنے پر مقدمہ درج کروا دیتے ہیں اور آج ہم سے خوشگوار موڈ میں گفتگو کررہے ہیں۔ کہنے لگے: پہلے دن جب میں نے فیصلہ کیا کہ ’’ج‘‘ کو 24 سال قید اور باقی تمام کو پانچ پانچ سال قید لکھی تھی

پھر اچانک محسوس ہوا کہ نہیں یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے پھر میں نے یہ لکھا ہوا کمپیوٹر سے ڈیلیٹ کروا دیا اور پھر میں نے قانون کی کتابوں سے پڑھا اور تمہارے حق میں فیصلہ قانون کے مطابق سنایا۔ قارئین! اس سب کے پیچھے جو قوت اور طاقت تھی وہ اور شیخ الوظائف کی دعائیں تھیں۔

Leave a Comment