انسان کو عشق کیوں ہوتا ہے ؟ نبی پاکﷺ نے فرمایا

آج آپ کوبتائیں گے کہ آخر انسان کو عشق کیوں ہوتا ہے؟ اس بھر ی دنیا میں عاشقوں کی کمی نہیں ہے ۔ جس کسی کو دیکھو وہ عشق گنگاتا ہوا نظر آتا ہے اگر آپ یہ سوال عاشق سے کریں کہ آپ کو عشق کیوں ہوا ہے؟ تو ا س کا یہی جوا ب ہوتا ہے کہ عشق ایک ایسی چیز ہے۔ جو وصف ہوجاتا ہے ۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اورکیسے ہوتا ہے؟

اس کا جوا ب ان کےپاس سے نہیں ملتا مگر سرورکائنات حضور اکرم ﷺ نے جو اس بارے میں ارشادفرمایا ہے وہ آپ کو بتائیں گے ۔ یہ واقعہ کچھ اس طرح سے ہے۔ کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے نواسہ رسول یہ عشق کیوں ہوتا ہے کسی انسان کو کوئی انسان اتنا اچھا کیوں لگتا ہے کہ اس کے سامنے پوری دنیا کچھ نہیں لگتی بس یہ کہناتھا تو نواسہ رسول امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا میں نے اپنے بابا سے انہوں نے اپنے بابا سے انہوں نے اپنے بابا سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہر انسان کے اندر اللہ کی کوئی نہ کوئی صفت ضرور موجود ہوتی ہے

کوئی رحم دل ہوتا ہے کوئی عادل ہوتا ہے کوئی سخی ہوتا ہے کوئی شجاع ہوتا ہے جب انسا اپنے اندر پائے جانے والے اوصاف کی خوشبو کسی دوسرے میں محسوس کرتا ہے تو اس کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور اس سے بات کرنا اسے دیکھنا اسے ملنا اچھا لگنے لگتا ہے اسے یہ لگتا ہے۔کہ یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں دراصل وہ خود میں اسکو اور اس میں اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور ہر جگہ اس کی کمی کو محسوس کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہر پل وہ مجھ سے راضی رہے اور اسی کیفیت کو زمانے والے عشق کا نام دیتے ہیں بس کوئی مخلوق سے عشق کرتا ہے

تو کوئی خدا سے ۔جب سے انسان اس دنیا میں آیا ہے ‘ وہ عشق میں مبتلا ہوتا آیا ہے ۔ یہ محبت دو قسم کی ہے ۔ ایک عورت سے محبت اور دوسری خدا سے محبت ۔جب کہ مال یا دنیا سے محبت ان سے الگ ہے ۔عورت سے محبت کو عشقِ مجازی کہتے ہیں اور خدا سے محبت کو عشقِ حقیقی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے ۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عشقِ مجازی ہی عشقِ حقیقی کی راہ ہموار کرتاہے ۔ اس لیے کہ انسان پہلے کسی انسان سے محبت کرتاہے ۔جب اسے یہ محبت حاصل نہیں ہوتی ‘تو پھر اس کا دل تڑخ جاتا ہے ۔

وہ ویرانوں کا رخ کرتا ہے اور پھر وہ مجذوب بن کر خدا کی محبت میں ڈوب جاتا ہے ۔یہاں ایک لطیفہ سنیے: ایک لڑکا کسی ویرانے میں جاتا ہے ‘ جہاں سات مجذوب دریاں بچھا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک نے پوچھا بتا ئو بیٹے تمہیں کیا پریشانی ہے ۔کس چیز نے تمہیں اس ویرانے میں ہمارے پاس آنے پر مجبور کیا۔ لڑکا کہتا ہے کہ میں ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا‘ اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے ۔ مجذوب کہتاہے کہ اندر سے اپنی دری نکال کر لے آئو اورادھر ہمارے ساتھ ہی بیٹھ جائو۔ اب ہم آٹھ ہو گئے ہیں ۔

کیا عشقِ مجازی ہی عشقِ حقیقی کی گزرگاہ ہے ؟ اس بارے میں اپنے استاد سے جو سیکھا‘ وہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں ۔ان دوقسم کے عشق میں بہت فرق ہے ۔ جب انسان اپنے جیسے ایک انسان کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے‘ تو وہ اس انسان کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔یہ انسان اسے ستاتا ہے ‘ رلاتا ہے ‘ اس کا استحصال کرتا ہے ۔ جب کہ خدااپنے سے محبت کرنے والوں کا استحصال نہیں کرتا۔

یہ انسان محبوب خود بھی ان حالات کے ہاتھوں مجبور ہوتاہے ‘ جو خدا کی طرف سے اس پر بیت رہے ہوتے ہیں ۔ ہو سکتاہے کہ یہ مجبور انسان خود کسی اور کی محبت میں مبتلا ہو ؛لہٰذا وہ اسے مثبت جواب نہ دے سکے ۔ کسی بھی انسان سے محبت عارضی ہوتی ہے ‘ سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں سے کی جانے والی محبت کے ۔ جیسے جیسے عمر گزرتی ہے ‘ چہرے پہ جھریاں پڑنے لگتی ہیں ‘کھال ڈھیلی ہو جاتی ہے ‘ وزن بڑھ جاتا ہے ‘ بال گر جاتے ہیں ‘ انسان بد نما دکھنے لگتاہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اکثر صورتوں میں اس محبت میں کمی آنے لگتی ہے۔

Leave a Comment