دوزخ میں کچھ عورتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کررہی تھیں ، نگران فرشتے نے کسی سے پوچھا یہ کس قسم کی عورتیں ہیں

کچھ بیویاں اتنی بے حس ہوچکی ہوتی ہیں کہ جب فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوئی،اندر سے عورت نے آوازدے کر پوچھا۔۔ کیابات ہے، کون ہے؟؟۔۔ باہر سے آواز آئی۔۔بی بی ہم پولیس والے ہیں،آپ کے شوہر کی میت لے کرآئے ہیں،

ان کے اوپر سے روڈ بنانے والا’’بلڈوزر‘‘ گزرگیا تھا۔۔ نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔خاتون کی آواز آئی، تو پھر مجھے دروازے پر بلانا ضروری ہے کیا ،دروازے کے نیچے سے اندر کھسکا دو۔

۔بیوی نے گھبرائی ہوئی آواز میں شوہر سے کہا کہ شادی کی رات جو سونے کی انگوٹھی آپ نے مجھے تحفے میں دی تھی ، وہ آج کہیں گم ہو گئی ،جس پر شوہر نے کہا،اچھا ، عجیب اتفاق ہے کہ آج میرے کوٹ کی جیب میں سے بھی پانچ ہزار کا نوٹ غائب ہے

مگر مجھے نوٹ گم ہونے کا اتنا غم نہیں۔۔بیوی نے چونک کے پوچھا، کیوں ؟ ۔۔۔شوہر نے جواب دیا،اس لیے کہ تمہاری کھوئی ہوئی انگوٹھی مل گئی ہے، بیوی خوشی سے نہال کر بولی، واقعی ؟ کہاں سے ملی۔۔شوہرنے کہا، میرے کوٹ کی جیب میں تھی

جس میں سے پانچ ہزار روپے غائب ہوئے تھے۔یہ تو خیر ایک لطیفہ تھا۔ مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسی بہت سے بیویاں ہیں کہ جو اپنے شوہروں کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی رہتی ہیں۔

زیادہ کمانے والا شوہر ہو تو جیب سے پیسے غائب ہونے کا اتنا زیادہ پتا نہیں چلتا اور اگر اندازہ ہو بھی جائے تو شوہر کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ ہاں اگر شوہر کوئی ملازمت پیشہ ہو یا کم آمدن ہو اور بیوی ایسی مل جائے

تو بس پھر اس بیوی کی خیر نہیں، آئے دن لڑائی جھگڑے اس گھر کا مقدر بن جاتا ہے۔ بسا اوقات یہ لڑائی جھگڑے بڑھتے بڑھتے علیحدگی تک پہنچ جاتے ہیں۔۔ویسے یہ بات بھی اپنی جگہ تلخ حقیقت ہے کہ آج کل کی بیویاں اپنے شوہر نامدار کی درجن بھر گرل فرینڈز تو برداشت کرلیتی ہیں لیکن ’’حلال‘‘ سوکن نہیں۔۔طنزومزاح جہاں سنجیدگی سے کیاجانے والا تخلیقی عمل ہے وہیں یہ ذہانت اور فطانت کا کام بھی ہے۔

۔ ایک لطیفہ یوں ہے کہ دوزخ میں چند عورتیں مستیاں کررہی تھیں۔ شیطان نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کون ہیں جو یہاں بھی خوش ہیں؟ فرشتہ نے جواب دیا۔ یہ سسرال میں ستائی ہوئی بہوئیں ہیں۔ دوزخ میں آتے ہی ایڈجسٹ ہوجاتی ہیں۔

کہتی ہیں کہ بالکل سسرال والا ماحول ہے۔کہاجاتا ہےاوریہ عالمی سچائی بھی ہے کہ ۔۔لڑکیاں زندگی کے ہرموڑ پر ڈرتی ہیں،اکیلی ہوں تو سنسان راستے کا ڈر، بھیڑ میں لوگوں کا ڈر، بازار میں نوجوان لڑکوں کا ڈر، بچپن میں والدین کا ڈر، جوان ہوں تو بھائیوں کا ڈر، وہ تب تک ڈرتی رہتی ہیں جب تک کوئی جیون ساتھی نہیں مل جاتا اور یہی وہ شخص ہوتا ہے جس سے وہ اپنے سارے پرانے ڈر کا انتقام لیتی ہیں ۔

Leave a Comment