نکاح عرفی کیا ہو تا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے

اب تك ہم اس طرح كے افسوس ناك واقعات سن رہے ہيں تو كب تك ہمارى بيٹياں اس سے غافل رہينگى كہ اس طرح كہ مج ر م قسم كے لوگ كيا چاہتے ہيں ؟ہر لڑكى يہى كہتى نظر آتى ہے كہ ميں تو اس پر مكمل بھروسہ ركھتى ہوں، ميرا دل اس پر مطمئن ہے،

يہ دوسرے نوجوانوں كى طرح نہيں، پھر جب وہ نوجوان جو چاہتا تھا اس پر عمل كر كے اسے چھوڑ كر واپس بھاگ جاتا ہےايسے دسيوں واقعات و حادثات بلكہ سينكڑوں اور ہزاروں واقعات ہيں جن ميں اس طرح كى افسوسناك اشياء بار بار ہوتى ہيں اور اب تك ايسا ہى ہوتا چلا آ رہا ہےشريعت اسلاميہ كا يہ حكم حكمت والا تھا۔

جب اس نے عورت كو بےپردگى سے منع كرتے ہوئے اپنى زينت و زيبائش غير محرم مردوں كے سامنے ظاہر كرنے سے منع كيااور پھر شريعت اسلاميہ كى اس حكم ميں بھى بہت بڑى حكمت پائى جاتى تھى كہ اس نے مرد و عورت كو اختلاط سے منع كيا جس ميں شر و برائى كے علاوہ كچھ نہيں اور شريعت اسلاميہ كا يہ حكم بھى بہت بڑى حكمت ركھتا ہے جب اس نے عورت كو كسى اجنبى مرد سے بغير كسى ضرورت و سبب كے لہك لہك كر كلام كرنے سے منع فرماياہے

اور شريعت اسلاميہ اس ميں حكيم تھى جب اس نے غلط قسم كے افراد اور دل ميں مرض ركھنے والوں كے سامنے راہ بند كر ديا اور عورت كو پردے ميں چھپ كر رہنے اور مردوں كے جمع ہونے والى جگہوں سے حتى الامكان دور رہنے كا حكم ديا اور اجنى مرد كے ليے اجنبى عورت كو چھونا حرام قرار ديا۔

اور اسى طرح اس سے خلوت كرنا بھى حرام كيا، اور عورت كے ليے مرد سے لہك لہك كر اور نرم لہجہ ميں بات كرنا حرام كيا، اس كے علاوہ اور بھى بہت سارے حكم ہيں يہ سب حكم عورت كى عفت و عصمت كى حفاظت كے ليے ہيں، اور اسى طرح معاشرہ ميں خاندانوں كى فحش اور رذيل كاموں سے حفاظت كے ليے يہ احكام ديے

تا كہ معاشرے عفت و عصمت اور شرم و حياء عام ہواور جب عورت نے ان سب احكام كى مخالفت كى تو وہ ان بھيڑيوں كا شكار ہو گئيں جو نہ تو اللہ كى حرمت كا خيال كرتے ہيں اور نہ ہى انہيں ايسے غلط كام كرنے سے دين روكتا ہے اور نہ اخلاق، پھر آخر ميں عورت ہى نادم ہوتى ہے… ليكن اب پچھتائے كيا ہوت جب چڑياں چگ گئيں كھيت، وقت گزر جانے كے بعد پچھتانے كا كوئى فائدہ نہيں،

كيونكہ يہ وقت ايسا ہے جس ميں گزرى ہوئى چيز كا واپس آنا ممكن نہيں شريعت كى اس ميں بھى عظيم حكمت تھى۔

جب اس نے عورت كو خود اپنى شادى كرنے سے روكا، بلكہ اس كى شادى كے ليے ولى كى شرط ركھى كہ ولى كے بغير وہ شادى نہيں كر سكتى كيونكہ اس كا ولى اس كے ليے مناسب خاوند اختيار كرنے ميں زيادہ قادر ہے، تا كہ عورت كو دھوكہ نہ ہو، اور مج قسم كے لوگ عورت سے نہ كھيل سكيں اور پھر ولى كے بغير عورت كى شادى پر نبى كريم صلى اللہ عليہ نے حكم لگايا كہ يہ شادى باطل ہے،

اسى كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: جس عورت نے بھى اپنے ولى كى اجازت كے بغير نكاح كيا تو اس كا نكاح باطل ہے، اس كا نكاح باطل ہے، اس كا نكاح باطل ہے