پیارے حبیب ﷺ کا واسطہ یہ غلطی آپ نے نہیں کر نی ورنہ زندگی اور م و ت میں چند سیکنڈ کا فاصلہ رہ جا ئے گا۔

ہر انسان کو ایک مخصوص مقدار میں پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی پیتے ہوئے ہم بعض اوقات کچھ غلطیاں کرجاتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

اکثر ہم مرغن غذائیں کھانے کے بعد پانی پیتے ہیں، جبکہ اس سے گریز کرنا چاہئیے۔ اس وقت پیا جانے والا پانی غذا کو ہضم کرنے والے گیسٹرک جوس کے اثر کو کم کردیتا ہے، جس سے غذا ہضم ہونے میں مشکل پیش آتی ہے۔ اس سے انسولین کی سطح میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔اسی طرح ایک وقت میں بہت سارا پانی پینے سے تھوک پتلا ہوجاتا ہے جس سے غذا کو ہضم کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہوجاتا ہے۔

ایک وقت میں 60 سے 90 ملی لیٹر پانی پئیں اور آہستہ آہستہ پئیں۔کئی گھنٹوں کی نیند کے بعد ہمارے جسم کو اپنی توانائی بحال کرنے کے لیے فوری طور پر کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پانی بھی انہی میں سے ایک ہے۔ نیند میں ہمارا جسم خشک ہوجاتا ہے اور بیدار ہونے کے بعد فوری طور پر اسے ہائیڈریشن فراہم کرنا ضروری ہے لہٰذا صبح اٹھنے کے بعد ایک گلاس پانی ضرور پئیں۔

بستر پر جانے سے قبل ایک گلاس پانی پینا اپنی عادت بنالیں۔ یہ نیند کے دوران جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچائے گا جبکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں دن بھر آپ سستی اور غنودگی محسوس کریں گے۔سخت ورزش کرتے ہوئے بہت سارا پانی پینے سے گریز کریں، یہ آپ کو سر درد، متلی اور چکر میں مبتلا کرسکتا ہے۔

کوئی تیز اور مصالحہ دار شے کھانے کے بعد ہم اس کی جلن زائل کرنے کیلئے پانی پیتے ہیں، لیکن پانی پینے سے ہماری زبان پر موجود جلن پیدا کرنے والے مالیکیولز مزید متحرک ہوجاتے ہیں۔ یعنی آپ جتنا زیادہ پانی پئیں گے اتنی ہی جلن محسوس کریں گے، اس کے برعکس ایسے موقع پر دودھ پینا جلن کی شدت کو کم کرسکتا ہے۔

پانی بیٹھ کر،اُجالے میں دیکھ کر،سیدھے ہاتھ سے بِسْمِ اﷲ پڑھ کر اس طرح پئیں کہ ہر مرتبہ گلاس منہ سے ہٹاکر سانس لیں ،پہلی اوردوسری بارایک ایک گھونٹ کر کے پی لیجئےاور تیسری سانس میں جتنا چاہیں نوش کیجئے اس طرح پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے ،پانی کو چوس کر پیاکیجئے، بڑے بڑے گھونٹ نہ پیئے، جب پی لیں تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہیں ۔نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم تین سانس میں پانی پیا کرتے تھے۔

اس کی حکمت خود ہی یوں ارشاد فرمائی:اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لیے مفید اور خوشگوار بھی ہےانی جسم میں آکسیجن اور گلوکوز کو درست طریقے پہنچانے سے مدد دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ ورزش کے دوران خود کو توانائی سے زیادہ بھرپور محسوس کرتے ہیں۔

مزید براں یہ جوڑوں اور مسلز کے لیے لبریکنٹس کا کام کرتا ہےجب پیٹ بھرنے کا احساس ختم ہونا شروع ہوگا تو آپ جسم میں موجود اضافی نمکیات کو باہر نکالنے لگیں گے اور بار بار ٹوائلٹ کے چکر لگانے پڑسکتے ہیں۔

تاہم اس عمل کے نتیجے میں آپ کے جسم کے لیے غذا کو ہضم کرنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ اور بار بار ٹوائلٹ سے جانے سے آپ کو جسمانی طور پر زیادہ حرکت کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔