بچوں کی نکسیر کا سب سےبہترین علاج

اگربچوں کوصحت مندرکھنا چاہتے ہیں فٹ رکھنا چاہتے ہیں ایسے چنے کھلاؤ جن کے ساتھ چھلکے ہوں، بھنے ہوئے چنے۔ جس کونکسیرنہ جاتی ہو جتنی پرانی نکسیرہو۔ چنے کی کچی دال (بھنی ہوئی نہ ہو) ایک کھانے والا چمچ ایک چھوٹے کپ پانی میں رات کوبھگودیں اورچھوٹا ساگری کھوپے کاخشک ٹکڑا یہ بھی ساتھ بھگودیں۔صبح اُٹھ کروہ ٹکڑاکھلا دیں اوردال کھلا دیں اورویہی پانی پلادیں۔

چند ہی دنوں میں تین چیزوں میں حیرت انگیزرزلٹ ملے گا ۔ ایک نظرمیں ، ایک حافظے میں اورتیسرا نکسیرنام کی چیزہی نہیں رہے گی جن کوگرمیوں میں نکسیرہوتی ہے وہ کچھ ہفتے اس کواستعمال کرائیں۔اگربچوں کو صحت یاب رکھناچاہتے ہیں ، ان کوفٹ رکھناچاہتے ہیں توان کو چنے کھلائیں ۔چنے کھانے والوں گھروں میں میاں بیوی کے جھگڑے نہیں ہوتے ۔

چنے چھلکے کے ساتھ کھائیں ۔اس مرض میں ناک کی باریک اور چھوٹی نالیوں پر دباؤ بڑھ جانے سے اوپر والی جھلی پھٹ جاتی ہے اور خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ خون کبھی قطروں کبھی دھار کی صورت میں بہتا ہے۔ موسم گرما میں یہ تکلیف زیادہ ہوتی ہے تاہم موسم سرما میں بھی ہو جاتی ہے۔عام طور پر چھوٹی عمر کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

یہ بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ دیگر کئی ایک بیماریوں میں سے کسی ایک بیماری کے ہونے کی علامت ہے۔ ناک کی کچھ ایسی بیماریاں بھی ہیں جن کی وجہ سے ناک سے خون جاری ہو سکتا ہے۔جن میں ناک کے اندر لگنے والا زخم یا کوئی بیرونی چوٹ۔کوئی باہر سے گھسی ہوئی شے۔ ناک کی رسولیاں یا ناک کی پرتوں میں کیڑے پڑ جانا۔ خناق۔ چیچک یا خسرہ جیسی خطرناک بیماریاں اور ایسی بیماریاں شامل ہیں جن سے خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں۔

بلڈ پریشر میں زیادتی۔خون کا سرطان۔ بہت زیادہ بلندی سے چھلانگ لگانے سے یا زیادہ گہرے سمندر کی تہہ میں جانے سے بھی نکسیر جاری ہو جاتی ہے۔بچوں کی نکسیر پھوٹنے کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نکسیر پھوٹنا یا ناک سے خون بہنے کا سبب گرمی یا بلڈ پریشر ہے۔ طبی نقطہ نظر سے نکسیر پھوٹنے کا سبب بچوں کی ناک کے اندر خون لے جانے والی نسوں کا کمزور پڑ جانا ہے۔

اس عارضے میں مبتلا بچوں کی ناک کی نسیں پھول جاتی ہیں اور ذرا سی ٹھیس سے خون بہنے لگتا ہے۔ تاہم کچھ بچوں کا مرض خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ناک سے بہتا خون دیکھنا مریض کے لیے اور دیکھنے والوں اور گھر والوں کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات مریض اور گھر والے گھبرا جاتے ہیں اس وقت مریض میں بیماری کی وجوہات تلاش کرنے کے بجائے مریض کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا چاہیے۔

اس سے خون رک جاتا ہے اور اگر پھر بھی نہ رکے تو ناک پر برف کے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنی چاہئیں۔ اس وقت بجائے گھبرانے کے مریض کو تسلی دینا چاہیے کیونکہ زیادہ خون بہنے سے اچھی سے اچھی صحت کے مالک کا بھی بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔ خون رکنے کے بعد مریض کو کوئی ٹھنڈا مشروب گھونٹ گھونٹ پلانا چاہیے۔ آئس کریم کھلانی چاہیے۔

نکسیر گرم علاقوں کا ایک عام مرض ہے لیکن اگر بچوں کو یہ مرض بار بار ہو تو بچے کو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں۔ بچوں کو ان کے مستقبل کے لیے بھی اور ویسے بھی مستقل اور بھرپور علاج کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ مستقبل میں انھیں خون کی کمی یا سانس کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ممکن ہے کہ بچے کی بار بار نکسیر پھوٹنے کی وجہ اس کے سر، گردن یا پھر ناک کا کوئی مسئلہ ہونکسیر کی وجوہات:سر میں اجتماع خون۔ناک کے اندر مقامی تکلیف۔مردوں میں اکثر نکسیر بواسیری خون کے بند ہونے سے پیدا ہوتی ہے اور نوجوان عورتوں میں حیض نہیں آتا بلکہ نکسیر بہنے لگتی ہے۔ عمر کے بڑے افراد میں خاص طور پر مزاجی حالات کے ماتحت نکسیر کبھی کبھی دورے کی صورت میں ایک خاص عرصے کے بعد پیدا ہوتی رہتی ہے۔

ایسی حالت میں بغیر مناسب علاج کے نکسیر کا بند ہو جانا خطرے کا پیش خیمہ ہے۔بچوں کی نکسیر پھوٹنے کے اسباب میں سر یا ناک پر چوٹ لگنا یا فریکچر بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں کی عادت ہوتی ہے وہ بار بار ناک میں انگلی ڈالتے ہیں جس کے باعث ناک میں زخم اور سوجن آ جاتی ہے۔

اکثر سانس کی تکالیف میں مبتلا بچوں کو ناک میں کیے جانے والے اسپرے کے باعث ناک میں جلن اور سوزش ہوتی ہے، بچے ناک کو رگڑتے ہیں جس سے رگیں یا نسیں متاثر ہوتی ہیں اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔ نکسیر پھوٹنے کی ایک وجہ ناک کی ہڈی میں کوئی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الرجی سے بھی بچوں کی ناک میں انفیکشن ہو جاتا ہے۔بڑی عمر کے افراد میں نکسیر کی وجہ ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہو سکتا ہے۔

نکسیر کا پھوٹنا اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے کمزوری لاحق ہو جاتی ہے۔ نکسیر عموماً ناک کے اندر ورم وغیرہ سے ہوتی ہے۔ بعض دفعہ حرارت جگر اور وبائی بخار اور بچوں میں پیٹ کے کیڑے بھی اس کا سبب ہوتے ہیں۔ جب نکسیر پھوٹنے والی ہوتی ہے تو سر میں گرمی اور خشکی معلوم ہوتی ہے ناک نتھنوں میں، حلق میں سوزش اور گرمی اور خشکی معلوم ہوتی ہے اور بعض دفعہ خارش محسوس ہوتی ہے۔

کمزور بچوں میں پیٹ میں کیڑے پڑ جانے سے ہو تو بچہ بار بار ناک نوچتا ہے ۔ بعض اوقات دھوپ میں چلنے سے پان چباتے ناک کو کھجانے، چھینک آنے یا روز سے کھنکھارنے سے فوراً نکسیر پھوٹ پڑتی ہے۔ بعض دفعہ بغیر کسی حرکت کے ناک میں سوزش ہو کر نکسیر جاری ہو جاتی ہے اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے اور بعض دفعہ بلڈشوگر ہونے کی وجہ سے بھی نکسیر پھوٹ پڑتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment