کیا حمام میں کپڑے لٹکائے جا سکتے ہیں؟

سوال
کیا حمام میں کپڑے لٹکانا جائز ہے؟ کچھ دنوں سے یہ بات بہت مشہور ہو رہی ہے کہ غسل خانے میں کپڑے نہیں لٹکانے چاہییں؛ کیونکہ یہاں شیطانوں کی بسیرا ہوتا ہے، تو اس بات کی کیا حقیقت ہے؟

جواب کا متن
الحمد للہ.

جہاں لوگ قضائے حاجت کرتے ہیں یہ جگہیں شیاطین کی آماجگاہیں ہوتی ہیں، چنانچہ یہاں پر انسان کو اتنی دیر ہی ٹھہرنا چاہیے جتنی دیر میں قضائے حاجت کر لے، جیسے کہ سنن ابو داود: (6) میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یہ بیت الخلا جنوں کے حاضر ہونے کی جگہ ہوتے ہیں، لہذا جب بھی تم میں سے کوئی بیت الخلا جائے تو کہے: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ یعنی: میں خبیث بھوتوں اور بھتنیوں سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں )

اس حدیث کو علامہ البانیؒ نے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث مبارکہ کا عربی لفظ: {الْحُشُوشَ } یہ لفظ: { اَلْحُش} کی جمع ہے، جس کا معنی ہے لیٹرین، جہاں پاخانہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح { مُحْتَضَرَةٌ} کا معنی ہے کہ یہاں جن اور شیاطین بنی آدم کو تکلیف دینے کے لیے چھپ کر بیٹھتے ہیں؛ کیونکہ یہاں انسان ستر کھول کر بیٹھتا ہے اور یہاں اللہ کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔
مزید کے لیے دیکھیں: “مرقاة المفاتيح” (1/ 386)

اسی طرح علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“جہاں شیطان ہو ایسی جگہوں سے پرہیز کرنا مستحب ہے، اور حمام میں نماز ادا کرنے سے ممانعت کی علت میں یہی بات زیادہ ظاہر محسوس ہوتی ہے۔” ختم شد
ماخوذ از: “شرح نووی” (5/ 183)

دوم:

کپڑوں کو حمام میں لٹکانے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے مذکورہ سبب کی وجہ سے بیت الخلا میں کپڑے لٹکانا مکروہ بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب بیت الخلا میں شیاطین کا تکلیف دینے کے لیے گھات لگا کر بیٹھنے کا بھی کسی بھی اعتبار سے کپڑوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا، چنانچہ یہ ایک بے بنیاد دعوی ہے، اور لوگوں میں پھیل جانے والا ایک ڈھکوسلا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (146002) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ تعالی اعلم

Leave a Comment