رسول پاک کا حکم سن لو توبہ کر لو گے۔ افطاری میں پکوڑے سموسے کھانے کے شوقین لوگ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں تمام انسانوں کے لیے اور آ نے والے تمام وقتوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے اللہ کا فرمان ہے اور تمہارے لیے نبی کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے خود بھی دیکھا کہ نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ ہے اس کے اندر تمام چیزیں موجود ہیں کہ ہم ان پر عمل کر لیں اس حوالے سے ہماری زندگی میں بہترین رہنمائی کے لیے تمام چیزیں موجود ہو تی ہیں

تمام اچھائی کی جانب نبی اکرم ﷺ کی احادیث ان کی زندگی اور ان کی سنت اشارہ کر تی ہیں اور تمام برائیوں سے نبی ﷺ کی ذات ہمیشہ روکتی ہے۔

ہم نے دیکھا کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کے متعلق بھی نبی کا کوئی اشارہ نبی کی کو ئی بات موجود ہو تا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے جو صحابہ کرام ہیں جو ہماری نبی کے ساتھی ہیں ان کے معمو لات بھی دیکھیں تو ہم بہت بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ ہمیں کیا کر نا چاہیے کیا نہیں کر نا چا ہیے یہ جو عام طور پر کھانا پینا ہے اس کے جو معمو لات ہیں گو کہ اللہ کی تمام نعمتیں ہی ہیں لیکن ہم نے کیا چیز کس وقت کھانی ہے اور کس وقت نہیں کھانی اور اگر کھانی بھی ہے تو کس طرح کھانی ہے۔

اس چیز کے بارے میں نبی ﷺ کی زند گی سے یہ معاملات پہنچے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان بہت گر میوں میں آنے والا ہے اور وہ خوش نصیب ہیں جو اس مہینے میں رمضان کے روزے رکھنے کی سعادت حاصل کر یں گے عام طور پر یہ ہو تا ہے کہ سحری و افطاری میں بہت سارے کھانے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں یعنی اتنا زیادہ کھا لیتے ہیں

اور ہم شاید اس روزہ رکھنے لگے ہیں اور روزہ بھی گرمی والے ہیں تو کیوں نہ زیادہ سے زیادہ پیٹ بھرکر پانی پیا جا ئے اس کے بعد ہم افطاری کے وقت بھی اپنی کمزوری اور سستی کو مٹانے کے لیے ہم پیاس کی شدت کو ختم کرنے کے لیے ہم فوراً روزہ افطار کرنے کے ساتھ ساتھ چار چار گلاس یک دم پانی چڑھا لیتے ہیں۔

یہ بہت خطرناک معاملہ ہے آپ نے رمضان کے مہینوں میں کس طریقے کی احتیاط کر نی ہے اور کیا کھانا ہے کیا نہیں کھانا ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں ہم خطرناک کام جو کر تے ہیں ہم سموسے پکوڑے اور تلی ہو ئی چیزوں کی بھر مار ہو تی ہیں ہم فوراً اپنے پیٹ میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں

جس کے بعد ہم ڈاکٹروں کے پاس چکر لگا تے ہیں جس سے ہمارا معدہ بھاری ہو جا تا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم آہستہ آہست بیمار ہو نا شروع ہو جا تے ہیں۔

Leave a Comment