افطار اور سحری میں یہ چیزیں اکٹھی کبھی نہ کھانا

اسلام میں رمضان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اس میں تمام مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور خود کو ان امور سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو اسلام میں حرام ہوتے ہیں یا پھر حرام کے قریب ہوتے ہیں سارا دن کھانے پینے سے خود کو روکنا اور مغرب کے وقت افطاری کرنا رمضان کا ایک معمول ہوتا ہے افطاری کے وقت جو سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے اس کی کیفیت بیان کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے اور یہ وہی شخص کرسکتا ہے

جس نے روزہ رکھا ہو اور تمام شرائط اور آداب کا لحاظ کر کے پورا دن گزارا ہو لیکن سارا دن بخار آنے کے بعد اگر آپ افطاری پر جو کچھ سامنے آجائے تو آپ کو نہ صرف رات گزارنا مشکل ہو جائے گا بلکہ اگلے دن روزہ رکھنے بھی ممکن نہیں رہے گا اس لئے افطاری کا وقت کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے اس کے بارے میں آپ کو مکمل طور پر علم ہونا چاہیے

ماہرین کے مطابق اگر افطاری میں پھلوں کا استعمال کرتے ہیں تو کھانے کے ساتھ ان کو ہرگز نہ کھائیں بلکہ کھانے سے پہلے یا کھانے کے بعد پھلوں کا استعمال کریں اس کی وجہ سے پھلوں کو ہضم ہونے کا موقع ملتا ہے اور کھانے کے ساتھ پھلوں کے استعمال سے جو معدے کو زیادہ مشقت اٹھانے پڑتی ہے

اسے بھی محفوظ رہتا ہے ایسے ہی مچھلی اور پنیر کا ایک ساتھ استعمال کرنا بھی مناسب نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ہمارے میدے میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہےکوشش کریں کہ دودھ اور وہ غذائیں جن کے اندر سیٹریس ایسڈ پایا جاتا ہے ان کا استعمال نہ کریں کیونکہ سیٹریس ایسڈ کے اندر یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ دودھ کو جما دیتا ہے اور ایسے ہی کوشش کریں کہ دونوں خوراک ایک ہی خاصیت رکھنے والی ہو اگر آپ پروٹین اور نشاستہ دار غذاؤں کو مل کر استعمال کریں گے تو اسے بھی آپ کو نقصان ہو سکتا ہے

اس کے علاوہ اور بہت ساری ایسی کھانا ہیں کہ جن کا ایک ساتھ استعمال کرنا افطاری کے وقت بالکل بھی مناسب نہیں۔پروٹین اور نشاستہ دار غذا کا اکٹھا استعمال دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔ لہذا سٹرس سے بھرپور غذائیں یا پھل اور دودھ سے بنی خوراک کو باہم ملا کر استعمال مت کریں۔کھانا آہستہ آہستہ کھائیں: کھانا کھانے میں جلدی مت کریں

کیوں کہ سارا دن بھوکا رہنے کے بعد اگر آپ کا جسم یک دم بہت زیادہ غذا حاصل کر لیتا ہے تو یہ پیٹ میں ہوا پیدا کرنے سمیت معدے کے دیگر امراض کو جنم دے سکتا ہے، لہذا کھانا آہستہ آہستہ کھائیں۔تربوز میں 92 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانی صحت کے لیے بہترین غذا ہے

جو اس موسم میں پانی کی کمی کو دور کرتی ہے۔ سخت گرمی کے باعث زیادہ مقدار میں پانی پینے کے باوجود انسانی جسم میں پانی کی کمی رہ جاتی ہے۔لیکن ماہرین صحت کے مطابق تربوز میں ایسی جزیات پائی جاتی ہیں، جو نہ صرف گرمی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، بلکہ وہ انسانی جسم میں پانی کی نمکیات کو بھی کنٹرول کرتی ہیں۔

اسی طرح تربوز کے ایک کپ میں 46 فیصد کیلوریز سمیت وٹامن سی اور وٹامن اے بھی بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے۔خربوزوں میں بھی بیٹا کروٹین اور وٹامن اے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف آپ کے سر کے جلدی خلیات کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ جلد کی اوپری تہہ کی چمک بھی بڑھاتے ہیں۔ یہ چہرے پر جلد کو مردہ ہوکر پرت کی شکل میں بھی تبدیل نہیں ہونے دیتے۔

لیکن خربوزے کو افطاری میں استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔اس موسم میں فالسے آسانی بلکہ انتہائی سستے داموں دستیاب ہیں، یہ پھل ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے جبکہ معدے کے لیے بھی بہترین ہے جو جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی دور کرتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment