رمضان میں رات کو بس ایک گلاس پی لو پھر چاہے پکوڑے کھاؤ یا سموسے

رمضان میں انسان سارا دن بھوک کی وجہ سے افطاری میں بدپرہیزی کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے تراویح پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے اور تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے تو اس تکلیف سے بچنے کے لئے اس تحریر میں کچھ غذائیں اور اور کچھ مشروبات پیش کئے جارہے ہیں جن سے آپ اس تکلیف سے بچ سکتے ہیں ۔غذا کو کھانا ہر انسان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے اور اسے پرمسرت حصہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

مگر غذا سے اسی وقت لطف اندوز ہوسکتے ہیں جب نظام ہاضمہ کے مسائل کا سامنا نہ ہو، دوسری صورت میں پیٹ پھولنے اور دیگر تکالیف اس تجربے کو تکلیف دہ بنا دیتے ہیں۔زیادہ کھانا ہوسکتا ہے کہ نظام ہاضمہ پر بوجھ بڑھا دے اور کمزور نظام ہاضمہ ہونے پر یہ بھیانک خواب ثابت ہوسکتا ہے۔تاہم چند غذاؤں کو اپنا کر آپ اپنے کمزور ہاضمے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

بس کھانے سے پہلے ان عادات کو اپنالیں، جو نظام ہاضمہ کو ڈرامائی حد تک بہتر بناسکتی ہیں۔صحت مند نظام ہاضمہ کے لیے جسم میں پانی کی مناسب مقدار کنجی ہے، پانی نہ صرف ٹھوس غذا کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے بلکہ ضروری اجزاءکو مناسب طریقے سے جذب بھی کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی پینا نظام ہاضمہ کو بیدار کرکے میٹابولزم کی رفتار بڑھا دیتا ہے، جبکہ کھانے کے درمیان میں پانی پینا معدے کی تیزابیت پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتا ہے۔سبز چائے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور مشروب ہے جو نہ صرف جسم میں ورم کو کم کرتا ہے بلکہ میٹابولزم کو بھی فوری حرکت میں لاتا ہے۔

تو کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے اس مشروب کو پینا ہر غذا کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔دہی نظام ہاضمہ کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ یہ معدے کو صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا فراہم کرتا ہے جو کہ غذا ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دہی کھانے کی عادت ہیضے اور معدے کے دیگر امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہے،

دوپہر یا رات کے کھانے کے بعد کچھ مقدار میں دہی کھانا غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔پپیتا انزائمے اور دیگر اجزا سے بھرپور پھل ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو غذا کے ٹکڑے کرنے میں مدد دیتے ہیں، اس پھل سے جسم کو وٹامن اے، بی اور سی بھی ملتا ہے جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کو یقینی بناتے ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پپیتا کھانے سے پیٹ پھولنے، قبض اور سینے میں جلن کے مسائل میں کمی آتی ہے، دوپہر کے کھانے کے ایک گھنٹے بعد اس پھل کو کھانا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔کیلے فائبر سے بھرپور پھل ہے جبکہ اس میں موجود دیگر اجزا بھی آنتوں کے افعال بہتر بنانے کے ساتھ کاربوہائیڈریٹ ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں، روزانہ ایک کیلا کھانا نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لیے کافی ہے۔

ٹھنڈے پانی کی مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ معدے میں ورم کو کم کرتے ہیں، جس سے نظام ہاضمہ بہتر اور آنتوں کے افعال تیز ہوتے ہیں۔ادرک کا کھانوں میں عام استعمال ہوتا ہے اور یہ نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین ہے، یہ مانا جاتا ہے کہ ادرک چربی اور پروٹین کو ہضم ہونے میں مدد دیتی ہے، اس کا چھوٹا سا ٹکڑا چبالینا نظام ہاضمہ کو تیز کرسکتا ہے۔

زیرہ اینٹی آکسائیڈنٹ، جراثیم کش مسالحہ ہے اور یہ ہاضمے کے مختلف امراض پر قبو پانے میں بھی مدد دیتا ہے، اسے غذا کا حصہ بناکر استعمال کرنا نظام ہاضمہ کو تیز کرتا ہے۔سونف کا پانی جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی کے لیے بہترین ہوتا ہے اور نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرتا ہے، نظام ہاضمہ ٹحیک ہو تو جسمانی وزن میں کمی لانا آسان ہوجاتا ہے۔

یہ بیج غذائی نالی کو سکون پہنچاتے ہیں، جس سے گیس خارج ہوتی ہے اور پیٹ پھولنے کا عارضہ کم ہوتا ہے۔ اسے پھانک لیں یا چائے کی شکل میں کھانے کے بعد پی لیں۔شکرقندی قبض کی شکایت کو ختم کرنے کے لیے بہترین ہے جو کہ پانی، فائبر، میگنیشم اور وٹامن بی سکس سے بھرپور ہوتی ہے، میگنیشم آنتوں کو ریلیف پہنچا کر ان کی قدرتی حرکت کو بحال کرتی ہے، جبکہ پانی اور فائبر جسمانی نمی کو برقرار رکھتے ہیں

جبکہ فضلے کو جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔سیب وٹامنز، منرلز اور غذائی فائبر سے بھرپور پھل ہے جبکہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹ نظام ہاضمہ میں ورم کو کم کرتے ہیں، سیب سے معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی افزائش ہوتی ہے جس سے بھی نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اگر افطاری کے بعد چار چمچ پودینہ کو گرینڈ کر کے اس میں ایک گلاس پانی مکس کر کے دو چٹکی کالی مرچ شامل کرلیں اور اس مشروب کو نوش فرما لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ہر چیز ہضم ہوجائے گی ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment