جو عورتیں شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ رکھ لیتی ہیں نبی پاک ﷺ کا فرمان سن لو

اسلام میں عورتوں کا ایک اپنا مقام ومرتبہ ہے کاروبار حیات کی متعدد ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی ہیں ۔ حضورنبی کریمﷺ خصوصی طور پر ان کی اپنی تعلیمات سے نوازتے تھے ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر زمانے میں خواتین لازمی توجہ کی مستحق ہیں ۔ماہ رمضان کے روزے ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہیں

روزے کو اسلام میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے ۔ سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ رسول اکرمﷺ نے روزہ کو اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن قرار دیا ہے

جیسا کہ رسو ل اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے اسلام کی بنیا دپانچ چیزوں پر قائم ہے ۔ پہلا یہ ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے آخری رسول ہیں دوسرا نماز قائم کرنا تیسرا زکوٰۃ دینا یا اس کو کہیں پر رمضان المبارک کے روزے رکھنا بھی کہا گیا ہے ۔

تیسرے درجے پر زکوٰۃ دینا اور خانہ کعبہ کا حج کرنا ۔ روزہ رکھنے کیلئے عورت کو اپنے شوہر سے اجازت لینی چاہیے ایسی کیا صورت ہے اس حوالے سے رسول اکرمﷺ نے فرمایا شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کہ اور بغیر اس کی اجازت اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔

یہاں پر یہ بات بتا دی گئی ہے اگر کوئی خاتون کوئی عورت نفلی روزہ رکھتی ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے شوہر سے اس بات کی اجازت لے کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عورت کے روزہ رکھنے پر مرد مجبور ہوجائے

اور کوئی گ ن ا ہ کر بیٹھے تو اس لیے اللہ تعالیٰ نے خواتین کو یہ بات بتا دی ہے کہ اگر وہ نفلی روزہ رکھیں تو شوہر کی اجازت ضرور لیں ۔ رمضا ن المبارک کے روزوں کی قضاء اگر عورت پر ہے تو پہلے روزوں کی قضاء کرے گی ۔ قضاء کے بغیر نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں ۔ شوہر کی موجودگی میں شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کانفلی روزہ رکھنا جائز نہیں

کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزے رکھے یہ اس کیلئے حلال نہیں ۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کسی عورت کیلئے جائز نہیں کہ جن دنوں میں اس کا شوہر اس کے پاس ہو اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے اور کسی عورت کیلئے جائز نہیں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں کسی کو آنے کی اجازت دے ۔

یعنی روزہ رکھنا ایسی صورت میں ح رام ہے اور خاوند کو اختیار دیا ہے کہ اگر عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ رکھے تو وہ اس روزے کو تڑوا سکتا ہے کیونکہ عورت نے اس کے حق میں دست درازی کی ہے ۔لیکن یہ رمضان کے علاوہ نفلی روزے کے بارے میں ہے۔

Leave a Comment