سحری کے وقت 3 چمچ یہ چیز کھا لیں انشاء اللہ پورا دن پیاس نہیں لگے گی۔

اس تحری میں آپ کو ایک ایسی چیز بتائی جارہی ہے جس کے اگر دو سے تین چمچ آپ سحری میں استعمال کر لیں تو سخت گرمی میں بھی دن کو پیاس نہیں لگے گی اس چیز کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اگر م و ت کے وقت کو کچھ دور کر سکتی ہے ۔اور وہ چیز دہی ہے ۔رمضان المبارک کے ماہ میں نہ صرف ہمارے غذائی معمولات تبدیل ہوجاتے ہیں بلکہ پورادن جسم کو گرمی ، پیاس اوربھوک سے محفوظ رکھنے میں سحری کے وقت دہی کا استعمال جادوئی تاثیر کا حامل ہے جومعدے کی گرمی کو دور کرتا اور منہ میں نکلنے والے چھالوں ، آنتوں کے ورم ،پیچش ،جسمانی کمزوری اور خون کی کمی دور کرنے اور جن لوگوں کو دودھ ہضم نہیں ہوتا یا جنہیں دودھ پسند نہیں ان کے لیے دہی بے حد مفید ہے ۔دہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے جس میں کیلشیم ، پروٹین اور پروبائیوٹک کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے ۔ دہی سے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہو تے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دودھ سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے ۔دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ رہا ہے۔

یہ انسان کی قوت مدافعت کو بڑھا دیتا ہے جو اسے تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔ انسان کی قوت مدافعت جتنی زیادہو گی وہ اتنا ہی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔دہی سے معدے کی کئی تکالیف سے نجات ملتی ہے ۔ یہ جسم میں پی ایچ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔ دہی معدے میں تیزابیت ہونے سے بچاتا ہے۔ اس میں موجود ضروری غذائی اجزا آسانی سے انہضامی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔ یہ دیگر غذاؤں کی بھی ہضم ہونے میں معاونت کرتا ہے ۔دہی میں موجود کیلشیم جسم میں کارٹیسول بننے سے روکتا ہے۔ کارٹیسول کی وجہ سے ہائپر ٹینشن اور موٹاپے جیسے مسائل پیش آتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ 18 اونس دہی کھایا جائے تو یہ پیٹ کی چربی پگھلانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ یہ فیٹس کے خلیات میں سے کارٹیسول کے اخراج کو روکتا ہے اور بڑھتے وزن کو کنٹرول کرتا ہے ۔دہی میں موجود کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مظبوط بناتے ہیں ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹوپروسس کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔پاکستان کے ہر حصے میں دہی روز مرہ کے کھانوں میں استعمال ہوتا ہے

۔سندھ پنجاب کی دہی سے بنی لسی ہو یا کشمیر کی یخنی، کراچی میں لکھنؤ کا قورمہ اور دہی سے بنے ان گنت رائتے اور دہی بڑے دسترخوان کی زینت ہیں۔ روز مرہ کے کھانوں میں دہی کی ایک کٹوری کے بغیر کھانا مکمل نہیں سمجھا جاتا۔عصر حاضر میں دہی کا استعمال بہت عام ہے اور دکانیں ہر طرح کے دہی کے ڈبوں سے بھری رہتی ہیں کیونکہ گھر میں دہی جمانے کا چلن کم ہوتا جا رہا ہے یا صرف گاؤں دیہات تک محدود ہے۔ گو دہی کا استعمال عام تھا لیکن اسے پھینٹ کر چھاچھ بنائی جاتی تھی۔ دہی میں شہد یا شکر، کالی مرچ اور دارچینی ملا کر شربت تیار کیا جاتا تھا جو ہزار گنوں سے پر تھا۔ہاضمہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کی حرارت کو بھی برقرار رکھتا تھا۔ انگریزی دواؤں کے مروج ہونے سے پہلے کلکتے اور بنگال کے ڈاکٹر ٹائیفائڈ کا علاج مشٹی دہی سے کیا کرتے تھے کیونکہ یہ وٹامن سے سرشار ہوتی ہے۔ آئین اکبری میں ابوالفضل نے کئی ایک پکوانوں کا ذکر کیا ہے جس کا لازمی جزو دہی ہے۔ ترش دہی گوشت کے ریشوں کو توڑ کر ملائم بناتا ہے اس لیے دہی کو کچے پپیتے اور لیموں کے رس پر فوقیت حاصل ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین

Leave a Comment