روزے کی حالت میں سینیٹائزر استعمال کرنا کیسا ہے ؟

آج کل ہر جگہ سینیٹیزر کا استعمال عام ہو چکا ہے جس میں ایک قسم کا الکوحل ملا ہوا ہوتا ہے بیماریوں سے حفاظت کی خاطر ہاتھوں پر ملا جاتا ہے اس کے استعمال کے بعد کیا حکم ہوگا ؟تشفی بخش صراحت کریں ۔جواب: جو الکوحل انگور،کھجور ، اور چھوہارے سے تیار ہوتا ہے، اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور جو ان چیزوں سے نہ بنتا ہو ؛ بلکہ آلو ، گنے کے راب یا گندھک وغیرہ سے تیار ہوتا ہو، اس میں حکم کے اندر تخفیف ہے، اگر یہ سنیٹائزر ثانی الذکر نوعیت کے الکوحل سے تیار کردہ ہے تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے، ورنہ جائز نہیں ہے، اگر اول الذکر نوعیت کے الکوحل والا سینیٹائزر استعمال کرلیا تو نماز سے پہلے ہاتھوں کو دھوناضروری ہوگا ۔الکحل کی دو قسمیں ہیں:ایک وہ جو منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو، یہ بالاتفاق ناپاک وحرام ہے، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت ناجائز ہے.دوسری وہ جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد، گنا،

سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہو۔عام طور پر ادویات ، پرفیوم اور دیگر مرکبات میں جو الکحل استعمال ہوتی ہے وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا کسی چیز کے بارے میں جب تک تحقیق سے ثابت نہ ہوجائے کہ اس میں پہلی قسم (منقیٰ، انگور، یا کھجور کی ش ر اب )سے حاصل شدہ الکحل ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو ناجائز اور حرام نہیں کہہ سکتے۔ انگوراور کھجور کے علاوہ دیگر ذرائع سےحاصل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال ذاتی استعمال کی صنعت کی خارجی استعمال کی مصنوعات میں جائز ہے ،

مثلاً ٹوتھ پیسٹ، خوشبویات ہاتھ صاف کرنے کی چیزیں، ذاتی استعمال کی دیگر اشیاء وغیرہ ، جب کہ ان ہی مصنوعات میں اگر انگور یا کھجور سے حاصل شدہ ایتھائل الکحل استعمال ہو تو ان کا استعمال جائز نہیں ہے۔موجودہ دور میں جو الکوحل پرفیومز، سیناٹائزرمیں استعمال ہوتی ہے، وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، یہ نجس نہیں، بلکہ پاک ہے، بلکہ اس قسم کی الکوحل پینے کے قابل بھی نہیں ہوتی اور پینے کی صورت میں موت کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذاکرونا وائرس یا کسی بھی بیماری سے بچاؤ کے لیےایسے سینیٹائزر کا استعمال جائز ہے، یہ ہاتھ اور کپڑے پر لگے ہونے کی صورت میں نماز بھی ادا ہوجائے گی,اور مساجد میں اس کا استعمال جائز ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین