رمضان المبارک میں انتق۔ال کرنے والے کا حکم

رمضان المبارک اور جمعہ کے دن ان۔تق۔ال کرنے والوں کے بارے میں روایات میں آتا ہے ان سے قب۔ر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے، اب یہ عذاب صرف رمضان المبارک اور جمعہ کے دن ہٹایا جاتا ہے یا تاقیامت ،تو اس کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں: صرف ماہ رمضان المبارک اور جمعہ کے دن یہ عذاب اٹھادیا جاتا ہے۔

اور بعض فرماتے ہیں : تاقیامت ان سے قب۔ر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے اور یہ قب۔ر میں راحت وآرام کے ساتھ رہتے ہیں, زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حق میں یہ حکم عمومی ہے کہ اگر کسی مسلمان کا انتق۔ال رمضان المبارک یا جمعہ کے دن ہوجائے تو تا قیامت عذابِ قب۔ر ومنکر نکیر کے سوال سے محفوظ رہے گا، اور اللہ کی رحمت سے یہ بعید بھی نہیں کہ وہ حشر میں بھی اس سے حساب نہ لیں۔

جیساکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ملفوظات میں ہے:” فرمایا: رمضان میں اگر انت۔قال ہو تو ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں ہوتا ۔ یہی جی کو لگتا ہے اور أنا عند ظن عبدي بيپر عمل کرے۔ “(26/405)اور اگر کوئی غیر مسلم رمضان المبارک میں م۔ر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قب۔ر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

” قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق، لكن إن كان كافراً فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان، فيعذب اللحم متصلاً بالروح والروح متصلاً بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجاً عنه، والمؤمن المطيع لا يعذب بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه، والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها، ثم لا يعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعةً واحدةً وضغطة القبر ثم يقطع، كذا في المعتقدات للشيخ أبي المعين النسفي الحنفي من حاشية الحنفي ملخصاً ”۔ (فتاوی شامی 2/165)فقط واللہ اعلم