دین کا ایسا مسئلہ کہ جسے آج کل ہر کوئی غلط کر تا ہے۔

آج ایک سوال آیا سوال یہ ہے کہ غسل کر تے وقت کو ن سی سمت ہو نی چاہیے آج کل غسل خانہ اور بیت الخلاء ایک ہی ساتھ ہوتے ہیں ا یسے میں غسل کے لیے کس طرح سمت کا اندازہ لگا یا جا ئے نیز بیت الخلاء کے لیے کون سی سمت مقرر ہے چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے

کہ حاجت کے وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ ہو نا چاہیے اور نہ ہی پیٹھ ہو نی چاہیے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کر نا مقروع ہے یا تحریمی ہے غسل کی حالت میں اگر غسل بالکل بر ہنہ ہو کر کیا جا رہا ہے تو ایسی صورت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کا کر نا مقروع ہے۔

بلکہ رخ شما لاً جنو باً ہو نا چاہیے اور اگر سطر ڈھا نپ کر غسل کیا جا رہا ہو تو ایسی صورت میں کسی بھی طرف رخ کر کے غسل کیا جا سکتا ہے اسی طرح ایک اور سوال آیا سوال یہ ہے کہ اگر آدمی کو غسل کی حاجت ہو اور اسے روزہ بھی رکھنا ہو تو کیا غسل سے پہلے روزہ رکھنا جا ئز ہے اور ایسی حالت میں کھانا پینا مقروع تو نہیں چلتے ہیں

اس سوال کے جواب کی جا نب اس سوال کا جواب کچھ یوں ہے کہ ہاتھ منہ دھو کر کھا پی لیں اور روزہ رکھ لیں غسل بعد میں کر لیں جنا ب ت کی حالت میں کھانا پینا مقروع نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطا بق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ غسل کرتے وقت کون سی سمت ہونی چاہئے؟ آج کل غسل خانہ اور بیت الخلاء ایک ساتھ ہی ہوتے ہیں، ایسے میں غسل کے لئے کس طرح سمت کا انداز لگایا جائے؟

نیز بیت الخلاء کے لئے کون سی سمت مقرّر ہے؟قضائے حاجت کے وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ ہونا چاہئے اورنہ قبلہ کی طرف پیٹھ ہونی چاہئے، قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ غسل کی حالت میں اگر غسل بالکل برہنہ ہوکر کیا جارہا ہو تو اس صورت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔

بلکہ رُخ شمالاً جنوباً ہونا چاہئے، اور اگر ستر ڈھانک کر غسل کیا جارہا ہو تو اس صورت میں کسی بھی طرف رُخ کرکے غسل کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے وا قف ہیں کہ ہمارا جو دین ہے اس میں بہت ہی زیادہ بھلائی ہے تو ہمیں صرف اور صرف اسی مذہب سے ہی بھلائی حاصل ہو سکتی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم کسی بھی معاملے میں ہم اپنے مذہب سے ہی رہنمائی حاصل کر یں تا کہ ہمارے جتنے بھی مسئلے مسائل ہیں وہ حل ہو سکیں۔